دین رحمت
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
کھانا کھلانا قرآن میں مطلوب انسان کی جو تصویر ہے ، اس کا ایک پہلو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ اس کی محبت میں مسکین اور یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں (الدھر)۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں جب اہل جہنم سے پوچھا جائے گا کہ کیا چیز تم کو جہنم میں لے آئی۔ تو اس کی ایک وجہ وہ یہ بتائیں گے کہ ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے (المدثر 48، 4) اس طرح کی آیتوں میں الطعام (کھانا کھلانا) کا لفظ علامتی معنی میں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے مطابق ، ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسرے کسی انسان کو بھوک پیاس کی حالت میں دیکھے تو وہ اس کی بھوک اور پیاس مٹائے۔ وہ اس کی حاجتوں کو پورا کرے۔ دوسروں کو کھلانا یا ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا بلا شبہ بہت بڑا عمل ہے۔ خود کھانا اور خود کھانا اگر حیوانیت ہے تو مک نے کے بعد خود کھانا اور دوسروں کو کھلانا وہ چیز ہے جو کسی انسان کو حقیقی انسانیت کے درجہ میں پہنچاتا ہے۔ جس سماج میں لوگوں کے اندر یہ مزاج ہو کہ وہ اپنی کمائی میں دوسروں کا حصہ سمجھیں وہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ دوسروں کی ضرورت بھی پوری کر لیں۔ ایسا سماج سکون کا سماج ہوگا۔ ایسے سماج میں ہر انسان عافیت کی زندگی گزارے گا۔ ایسا سماج ایک بڑے خاندان کے مانند ہوگا جس کے ہر فرد کے دل میں دوسرے افراد کے لیے اسی طرح محبت کے جذبات ہوں گے جس طرح خود اپنے خاندان کے افراد کے لیے ہوتے ہیں۔ جو لوگ دنیا میں ایسا معاشرہ بنائیں ، وہ گویا خدا کی مرضی کو پورا کر رہے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں جنت کے معاشرہ میں بسائے جائیں گے۔ کیوں کہ انھوں نے دنیا میں جنتی معاشرہ کے مطابق ، زندگی گزارنے کی کوشش کی تھی۔ خود کھانے میں اگر دنیا کا فائدہ ہے تو دوسروں کو کھلانے میں آخرت کا فائدہ۔ خود کھانا اگر وقتی خوشی کا سبب ہے تو دوسروں کو کھلانا مستقل خوشی کا سبب۔ خود کھانا اگر صرف کھانا ہے تو دوسروں کو کھلانا اعلیٰ انسانیت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader