دین رحمت
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
جاری فائدہ مسند احمد کی ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص ایک درخت لگائے اور اس کے بعد وہ مر جائے پھر یہ درخت بڑا ہو کر پھل لائے، جس کو انسان اور چڑیاں کھائیں، تو یہ اس کے لیے ایک مستقل ثواب ہوگا جب تک کہ خدا کی مخلوق اس سے فائدہ اٹھاتی رہے (کان لہ اجر جار ما انتفع به من خلق الله) اسلام میں نفع رسانی کا ایک مستقل اصول وہ ہے جس کو صدقہ جاریہ کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک آدمی ایک مفید عمل کرے مثلاً وہ درخت لگائے یا پل بنائے ، اور اس کے بعد وہ مر جائے، مگر اس کی قائم کی ہوئی چیز اس کی موت کے بعد بھی باقی رہ کر انسانوں کو فائدہ پہنچاتی رہے تو اس قسم کی صدقہ جاریہ کی بے حد اہمیت ہے اور اس کام میں اس کا بہت بڑا ثواب بتایا گیا ہے۔ صدقہ جاریہ در حقیقت انسانی شرافت کے ایک اعلیٰ پہلو کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ انسانی شرافت کا ایک اعلیٰ درجہ ہے کہ آدمی یہ چاہے کہ وہ کوئی ایسا کام کر جائے جس کا فائدہ انسانی نسلوں کو اس وقت بھی پہنچتا رہے جب کہ وہ آدمی اپنی عمر پوری کر کے دنیا سے چلا گیا ہو۔ نفع رسانی یا فائدہ بخشی ایک اعلیٰ ترین انسانی جذبہ ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ جذبہ زندہ ہو وہ صرف اتنا ہی نہیں کرتا کہ براہ راست طور پر جب کسی انسان سے اس کا سابقہ پڑے تو وہ اس کو کچھ فائدہ پہنچادے۔ بلکہ ایسے آدمی کی یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جو عمومی طور پر لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا ہو۔ حتیٰ کہ اس کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ اس کی موت بھی انسانیت کے لیے اس کی نفع رسانی کا سلسلہ منقطع نہ کر سکے، اس کی نفع بخشی کا سلسلہ اس وقت بھی جاری رہے جب کہ وہ خود اس کو دیکھنے کے لیے دنیا میں موجود بھی نہ ہو۔ دوسروں کے لیے مفید بننا خود اپنی انسانیت کی تکمیل ہے۔ دوسروں کو دیے کر آدمی خود اپنے لیے اس سے زیادہ پا لیتا ہے جتنا کہ اس نے دوسروں کو دیا تھا۔ یہ عمل اپنے اور غیر کے تصور کو مٹاتا ہے، اور اپنے اور غیر کے تصور کو مٹا کر وحدت انسانیت کا ماحول بنانا بلا شبہ سب سے بڑی انسانی خدمت ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader