دین رحمت
Urdu book, p. 147
By Maulana Wahiduddin Khan
خبر کی تحقیق قرآن میں جو احکام دئے گئے ہیں ان میں سے ایک حکم یہ ہے۔ اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچادو، پھر تم کو اپنے کئے پر پچھتاناپڑے۔ (الحجرات ۶)۔ بہت سے انسان جب مل جل کر زندگی گزارتے ہیں تو ان کے درمیان طرح طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔ ان واقعات سے خبریں بنتی ہیں۔ یہ خبریں لوگ بیان کرتے ہیں۔ اس طرح وہ پورے سماج میں پھیل جاتی ہیں۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اگر کسی خبر کو صرف سن لینا کافی سمجھا جائے اور لوگ ایک بار سنتے ہی اس کو بیان کرنے لگیں تو تقریباً ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ خبر کی صورت بدل جاتی ہے۔ ابتدائی طور پر واقعہ اگر ایک سادہ واقعہ تھا تو اپنی آخری صورت میں پہنچ کر وہ بدلتے بدلتے ایک سنگین واقعہ بن جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ لوگوں کے اندر تحقیق کا مزاج ہو۔ لوگ ایسا کریں کہ محض سن کر کسی خبر کو نہ مان لیں اور نہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کرنا شروع کر دیں۔ لوگوں کے اندر یہ مزاج ہونا چاہیے کہ وہ جب بھی کسی خبر، خاص طور پر بری خبر کو سنیں تو اس کی پوری تحقیق کریں ہر پہلو سے اس کی نوعیت اور واقعیت کو جانچیں اس طرح ضروری تحقیق کر لینے کے بعد اپنی رائے بنائیں۔ اگر آپ کسی بری خبر کو سنتے ہی اس کو مان لیں تو اس کا نقصان یہ ہوگا کہ اس کی بنا پر آپ ایک انسان کے بارے میں غیر واقعی رائے قائم کر لیں گے اور اس کو ایک ایسے جرم کا مجرم قرار دے دیں گے جو اس نے کیا ہی نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بعد کو جب اصل حقیقت کھلے گی تو آپ کو سخت شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔ صحیح سوچ کے لئے تحقیق لازمی طور پر ضروری ہے۔ جن لوگوں میں تحقیق کا مزاج نہ ہو ان کے اندر صحیح سوچ اور درست فکر کار تقا بھی نہیں ہو سکتا۔ تحقیق صحیح نتیجہ تک پہنچنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ تحقیق کے بغیر بولنا ایک غیر سنجیدہ فعل ہے اور اسی کے ساتھ غیر اسلامی بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader