دین رحمت
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
غصہ نہیں قرآن میں مطلوب انسان کی جو صفتیں بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک صفت یہ ہے کہ انہیں جب غصہ آتا ہے تو وہ غصہ کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں (والکاظمين الغيظ والعافين عن الناس) آل عمران ۱۳۷۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو میرے لئے مفید ہو اور وہ بات مختصر ہو تاکہ میں اس کو یاد رکھوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم غصہ نہ کرو۔ سائل نے بار بار اپنا سوال دہرایا۔ آپ نے ہر بار یہی جواب دیا کہ تم غصہ نہ کرو (یا رسول الله قل لي قولا ينفعني واقلل على لعلي اعيه: فقال رسول الله صلى الله عليه لا تغضب فاعاد عليه حتى أعاد عليه مراراً كل ذلك يقول لا تغضب) ۔ تفسیر ابن کثیر ار ۳۰۵۔ فرد کی اصلاح اور سماج کی تعمیر دونوں کے لئے یہ ایک کلیدی اصول ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو بار بار ایسے تجربات پیش آتے ہیں جو اس کے اندر غصہ کو بھڑکادیں ۔ اب اگر آدمی ایسے منفی واقعات کا اثر لیتا رہے تو وہ معتدل ذہن کے ساتھ دنیا میں نہیں جی سکتا۔ اس کے ذہن میں ہر وقت ایک قسم کا اشتعال برپا رہے گا۔ اس کی یہ حالت اس کی صلاحیتوں کو کھا جائے گی۔ وہ اس قابل نہ رہے گا کہ اپنی جدوجہد حیات کا کوئی مثبت نقشہ بنا سکے۔ یہی معاملہ پورے سماج کا ہے۔ جس سماج کے لوگوں میں غصہ کو کنٹرول کرنے کا مزاج نہ ہو، ایسے سماج میں سکون رخصت ہو جائے گا۔ لوگوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیل جائے گی۔ ایک دوسرے کے لئے خیر خواہی اور ایک دوسرے سے ہمدردی جیسی قدریں باقی نہ رہیں گی۔ جس سماج کا حال یہ ہو جائے وہ سماج کبھی ترقی کا سفر طے نہیں کر سکتا۔ غصہ کو روکنہ سادہ طور پر صرف ایک عمل نہیں، وہ تمام دوسرے معاملات کی اصلاح کے لئے ایک کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader