Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

مشورہ قرآن میں خدا کے مطلوب انسان کی جو صفات بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ اپنا کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہیں ﴿وامرهم شورى بينهم﴾ الشوریٰ ۳۸۔ مشورہ انسان کی ایک فطری ضرورت ہے۔ کسی ایک انسان کا علم ہمیشہ محدود ہوتا ہے۔ وہ ساری باتوں کو یا کسی بات کے تمام پہلوؤں کو نہیں جان سکتا۔ حالانکہ موجودہ دنیا میں کوئی صحیح فیصلہ لینے کے لئے ضروری ہے کہ اس میں تمام متعلق پہلوؤں کی رعایت شامل ہو۔ مشورہ اسی مسئلہ کا حل ہے۔ وہ افراد کی انفرادی کیوں کی تلافی ہے۔ جب کہ معاملہ کو مختلف لوگوں کے درمیان رکھا جائے اور ہر آدمی کو کھلے طور پر اپنی رائے دینے کا موقع حاصل ہو تو ایسی صورت میں زیر مشورہ معاملہ کے تمام پہلو سامنے آجاتے ہیں۔ اب یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ جامع واقفیت کی روشنی میں معاملہ کے بارے میں کوئی فیصلہ لیا جائے ۔ مشورہ کو حقیقی مشورہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں میں کچھ اوصاف لازمی طور پر پائے جاتے ہوں۔۔۔ آدمی کو اپنی کمی کا احساس ہو وہ کسی صحیح رائے کو ماننے کے لئے اپنی انا کورکاوٹ نہ بننے دے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ تعصب کے خول سے نکل کر کھلے ذہن کے ساتھ لوگوں کی باتوں کو سن سکے۔ جس طرح وہ اپنے جاننے کو جانتا ہے۔ اسی طرح وہ اس سے بھی باخبر ہو کہ وہ کون سے امور ہیں جن کی بابت وہ زیادہ نہیں جانتا۔ مشورہ فرد کے لئے بھی خیر کا ذریعہ ہے اور سماج کے لئے بھی۔ وہ چھوٹے معاملات میں بھی مفید ہے اور بڑے معاملات میں بھی۔ وہ ہر مرد اور عورت کے لئے ہے، کوئی بھی مرد یا عورت اس سے مستثنیٰ نہیں۔ مزید یہ کہ مشورہ صرف ایک دینی عمل نہیں ہے، وہ ایک عبادت بھی ہے۔ مشورہ دنیا کے اعتبار سے رحمت ہے اور آخرت کے اعتبار سے ثواب۔ مشورہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی سمجھ کے ساتھ دوسروں کی سمجھ کو بھی اپنے فیصلہ میں شامل کرلے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page