دین رحمت
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
برائی پھیلانا قرآن کی سورہ النور میں کچھ خاص معاشرتی ہدایات دی گئی ہیں اس کا پس منظر یہ تھا کہ مدینہ کے کچھ غیر مخلص اور غیر ذمہ دار مسلمانوں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کے بارے میں ایک لغو بات سنی اور فوراً ہی اس کا چرچا کرنے لگے۔ اس فعل کو قرآن میں اشاعت فاحشہ کہا گیا ہے (النور ۱۹) اس سلسلہ میں ایک ضروری ہدایت قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے۔ ولو لا اذ سمعتموه قلتم ما يكون لنا ان نتكلم اور جب تم نے اس کو سنا تو یوں کیوں نہ کہا کہ ہم کو زیبا نہیں کہ بھذا سبحانك هذا بهتان عظيم. يعظكم الله أن ہم ایسی بات منھ سے نکالیں ۔ معاذ اللہ یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ تعودوا لمثله ابداً ان كنتم مؤمنين. (النور ١٦-١٧) اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا اگر تم مؤمن ہو۔ ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے اس آیت کا تعلق عائشہ صدیقہؓ کے بارہ میں جھوٹے پروپگنڈے سے ہے مگر قرآن ایک ابدی کتاب ہے اور اس اعتبار سے اس آیت کا ایک عمومی اور وسیع تر مفہوم بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کے بارہ میں اس نوعیت کی کمزوری سے بچنے کا شدید اہتمام کرے جو اسلام کے دور اول میں مدینہ کے معاشرہ میں پیش آئی تھی۔ سماجی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص کے بارہ میں کوئی بات سامنے آتی ہے۔ باعتبار حقیقت وہ ایک سادہ بات ہوتی ہے مگر کوئی شخص نادانی یا شرپسندی کی بنا پر اس کا ایک الٹا مفہوم نکال کر اس کو بیان کرتا ہے۔ اب سننے والے اس کو لے کر اس کو پھیلا نا شروع کر دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ بے بنیاد بات ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ اسلامی شریعت کے مطابق ، یہ طریقہ بدترین جرم کی حیثیت رکھتا ہے صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب کسی کی زبان سے ایسی کوئی بات سنی جائے تو فورا اس کی دلیل اس سے پوچھی جائے اگر وہ اپنے قول کی تائید میں کوئی حقیقی دلیل نہ دے سکے تو سختی کے ساتھ اسکی مذمت کی جائے اور لوگوں کے اندر یہ ذہن پیدا کیا جائے کہ کوئی شخص بے دلیل بات نہ اپنی زبان سے نکالے اور نہ کوئی سننے والا اس کو سنے۔ بری بات کو تحقیق کے بغیر دہرانا اسلام میں بہت بڑا جرم ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader