Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 164

By Maulana Wahiduddin Khan

بہتر انسان حدیث میں آیا ہے پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لئے سب سے بہتر ہوں (خير كم خير كم لاهله وانا خير كم لاهلی) الترندی، کتاب المناقب۔ انسان کا سب سے پہلا عملی امتحان خود اپنے گھر کے اندر ہوتا ہے۔ ہر صبح اور ہر شام گھر کے اندر ایسے معاملات پیش آتے ہیں جن میں وہ کوئی رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس طرح ہر روز گھر کے اندر یہ جانچ ہوتی رہتی ہے کہ آدمی اپنے بول میں کیسا ہے اور اپنے عمل میں کیسا۔ آدمی اگر اچھا ہے تو وہ گھر کے معاملات میں اچھا ثابت ہوگا۔ اور اگر وہ برا ہے تو اس کی برائی بھی گھر کے اندر چھپی ہوئی نہیں رہ سکتی۔ کوئی آدمی باہر کی زندگی میں مصنوعی طور پر اچھی اچھی باتیں کر سکتا ہے، وہ اچھا نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے کو اچھا بنا کر پیش کر سکتا ہے۔ لیکن گھر کے اندر کوئی آدمی اپنی شخصیت کو چھپا نہیں سکتا۔ گھر ایک بہترین آئینہ ہے جس میں ہر آدمی کی حقیقی تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ اس طرح گھر ہر آدمی کے لئے ایک تربیت گاہ بن گیا ہے اگر کوئی آدمی اپنے گھر کے اندر اچھا انسان بننے میں کامیاب ہو جائے تو باہر آکر بھی وہ اچھا انسان ثابت ہوگا۔ گھر کسی سماج کی ابتدائی یونٹ ہے۔ بہت سے گھروں کے ملنے سے ایک سماج بنتا ہے۔ اس طرح گھر کی اصلاح پورے سماج کی اصلاح ہے اور گھر کا بگڑاپورے سماج کا بگڑ۔ گھر کے اندر وہ تمام معاملات چھوٹے پیمانے پر پیش آتے ہیں جو گھر کے باہر بڑے پیمانے پر پیش آتے ہیں۔ ہر گھر نہ صرف سماج کا ایک حصہ ہے بلکہ وہ سماجی زندگی کا ایک چھوٹا نمونہ بھی ہے۔ آدمی کو سماج میں اس طرح رہنا ہے کہ وہ ہر ایک کی عزت کرے ۔ وہ ہر ایک کا خیر خواہ ہو۔ وہ لوگوں سے نرم انداز میں خطاب کرے ۔ وہ لوگوں کے لئے رکاوٹ بنے بغیر اپنا کام کرے۔ اس کی نظر اپنے حقوق پر کم ہو اور اپنے فرائض پر زیادہ۔ وہ خدمت لینے کے بجائے خدمت کرنے کا مزاج رکھتا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page