دین رحمت
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسروں سے فائدے اٹھانا قرآن : وامرهم شورى بينهم (الشورى (۳۸)۔ اور اہل ایمان اپنا کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہیں۔ حدیث : المشورة حصن من الندامة وAMAN من الملامة مشورہ شرمندگی سے محفوظ رکھنے کا قلعہ ہے اور ملامت کے مقابلہ میں امان ہے۔ عمر فاروق: رأى الفرد كالحيط السهيل اکیلے آدمی کی رائے کچے دھاگے کی مانند ہے۔ عبد الحميد: المشاورة فى رأيه ناظر من ورائه اپنے معاملہ میں مشورہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اپنے پیچھے کی طرف دیکھنے والا۔ لقمان حكيم: شاور من جرّب الامور فانه يعطيك من رايه ماقام عليه بالغلاء وانت تأخذه مجاناً۔ تجربہ کار سے مشورہ لو کیوں کہ وہ تجھ کو مفت وہ چیز دیتا ہے جو اس کو مہنگی قیمت پر ملی ہے۔ مقوله: نصف رأيك مع اخيك فشاوره ليكمل لك رأيك تمہاری رائے کا آدھا تمہارے بھائی کے پاس ہے۔ تم اس سے مشورہ کرو تا کہ تمہاری رائے مکمل ہو جائے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب سے بہت زیادہ مشورہ کیا کرتے تھے (ما رأيت احداً اكثر مشورة لاصحابه من النبى ﷺ) اللہ پر ایمان اور اللہ کی معرفت کے بعد ایک آدمی کے اندر جو مزاج بنتا ہے، اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے معاملات میں بہت زیادہ مشورہ کرنے لگتا ہے۔ مشورہ عقل کا تقاضا ہے۔ کسی ایک آدمی کی سمجھ کبھی سارے پہلوؤں کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ ہر آدمی کی سمجھ محدود سمجھ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر عقلمند آدمی مشورہ کو پسند کرتا ہے۔ تاکہ دوسروں کی رائے معلوم کر کے اپنی رائے کی کمی کی تلافی کر سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader