دین رحمت
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
اصلاح کا جذبہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن، مومن کا آئینہ ہے۔ جب وہ اس میں کوئی عیب دیکھتا ہے تو اس کو درست کر دیتا ہے (المؤمن مرآة المؤمن، إذا رأى فيه عيباً أصلحه) ادب الدنیا والدين للبصری، صفحہ ۳۸۱ انسان کی انسانیت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کا خیر خواہ ہو۔ ہر انسان دوسرے انسان کی بہتری چاہے۔ ہر انسان کا یہ حال ہو کہ وہ دوسرے انسانوں کو اپنا بھائی سمجھے، وہ ان کی ترقی پر خوش ہو، اور اگر کسی بھائی میں کوئی خرابی دیکھے تو وہ خیر خواہی کے جذبہ کے تحت اس کی اصلاح کے لیے مستعد ہو جائے۔ جس سماج میں لوگوں کا یہ حال ہو وہاں ہر انسان دوسرے انسان کے لیے آئینہ کی مانند ہوگا۔ اگر آپ آئینہ کے سامنے کھڑے ہوں تو وہ کسی کی یا زیادتی کے بغیر آپ کے اصل چہرے کو دکھا دیتا ہے۔ اسی طرح ایک سچے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ جب بھی کسی دوسرے انسان کے اندر کوئی کمی یا خرابی دیکھتا ہے تو اس کا انسانی جذبہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کو اس سے باخبر کر دے۔ سچے انسان کے لیے ایسے معاملہ میں چپ رہنا ممکن نہیں۔ آئینہ جب کسی کو اس کے چہرے کی خرابی دکھاتا ہے تو اس کے اندر کوئی بُرا جذبہ نہیں ہوتا۔ آئینہ کا کام صرف خرابی کو بتانا ہے نہ کہ خرابی والے انسان کو نیچا دکھانا۔ اسی طرح سچا انسان وہ ہے جو اپنے بھائی کو اس کی خرابی سے آگاہ کرے تو اس کے دل میں بھائی کے خلاف نفرت یا حقارت کا کوئی جذبہ نہ ہو، ایسا کرتے ہوئے نہ وہ اپنے آپ کو اونچا سمجھے اور نہ دوسرے کو نیچا۔ اس کا مقصد صرف عیب کی اصلاح ہونا نہ کہ عیب کا اشتہار۔ آئینہ آدمی کے چہرہ پر کوئی دھبہ بتائے تو آدمی کسی رکاوٹ کے بغیر فورا اس کو قبول کر لیتا ہے۔ مگر جب انسان کسی آدمی کو اس کا عیب بتائے تو اکثر وہ اس کو اپنی عزت اور غیرت کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ یہ جذبہ آدمی کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ انسان کی نشاندہی کو بھی اسی طرح خوش دلی کے ساتھ قبول کرلے جس طرح وہ آئینہ کی نشاندہی کو قبول کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader