دین رحمت
Urdu book, p. 182
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنا محاسبہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ خود اپنا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے (حاسبو انفسکم قبل ان تحاسبو) الترندی انسان موجودہ دنیا میں عمل کرنے کے لیے آزاد ہے مگر وہ انجام کے معاملہ میں آزاد نہیں۔ آپ کو اختیار ہے کہ جو چاہیں بولیں اور جو چاہیں کریں۔ مگر آپ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ اپنے آپ کو اپنے قول و عمل کے انجام سے بچا سکیں۔ آدمی اپنی زبان سے کڑوا بول بولے تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ سننے والوں پر کڑوا دے بول کا بھی وہی رد عمل ہو جو میٹھے بول کا ہوتا ہے۔ جو آدمی اپنی زبان سے کڑوا بول بولے اس کو جاننا چاہیے کہ اس کو بہر حال لوگوں کی طرف سے منفی رد عمل کی قیمت بھگتنی پڑے گی۔ جو آدمی بے سوچے سمجھے عمل کرے اس کو جاننا چاہیے کہ اس کا اس قسم کا عمل فطرت کے قانون کے مطابق اپنا نتیجہ ظاہر کرے گا نہ کہ اس کی ذاتی خواہش کے مطابق۔ آدمی کے قول و عمل کا ایک انجام وہ ہے جو فوری طور پر دنیا میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ دوسرا انجام وہ ہے جو موت کے بعد آخرت میں ظاہر ہو گا۔ آخرت کا انجام بھی بہر حال اسی طرح سامنے آنے والا ہے جس طرح دنیا کا انجام آدمی کے سامنے فوراً آ جاتا ہے۔ آدمی کو بلا شبہ یہ اختیار ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ مگر یہ اختیار کسی کو بھی حاصل نہیں کہ وہ اپنے قول و عمل کے انجام سے اپنے کو بچا سکے، نہ موجودہ دنیا میں اور نہ آخرت کی دنیا میں، جو مرنے کے بعد ہر ایک کے سامنے آنے والی ہے۔ ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ ہر آدمی اپنا نگراں آپ بن جائے۔ ہر آدمی اس کو اپنا معمول بنالے کہ ہر روز وہ اپنا محاسبہ کرتا رہے۔ ہر آدمی اپنا بے لاگ جائزہ لے کہ اس نے جو کچھ کیا کہا، کیا وہ اس قابل تھا کہ اس کو کہا جائے اور کیا جائے، یا وہ اس قابل نہ تھا۔ قبل اس کے کہ آدمی کی کارگزاری کا انجام اس کے اوپر ٹوٹ پڑے اسے چاہیے کہ وہ اپنا محاسبہ کر کے پیشگی طور پر اس سے بچنے کے لیے فکر مند ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader