Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

نجات کا ذریعہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ خدا قیامت کی تکلیفوں سے اسے بچائے تو اس کو چاہیے کہ وہ قرض دار کو مہلت دے یا وہ اس کو معاف کر دے (عن ابی قتادہ، قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سرہ ان ينجیه الله من كرب يوم القيامة فلينفس عن معسر او يضع عنه) مسلم ایک آدمی اپنی ضرورت کے لیے کسی سے قرض لے اور جب ادائیگی کا مقرر وقت آئے تو وہ اس کی ادائیگی کی طاقت نہ رکھتا ہو، ایسی حالت میں قرض دینے والے کو چاہیے کہ وہ قرض دار کو مزید مہلت دے۔ اور اگر اس کے حالات کو دیکھتے ہوئے قرض دینے والا اپنے قرض کو معاف کر دے تو اس کا یہ عمل خدا کو بہت پسند ہے۔ خدا ایسے بندوں کے ساتھ آخرت میں آسانی کا معاملہ فرمائے گا جو دنیا میں انسانوں کے ساتھ آسانی کا معاملہ کریں۔ اس اصول کا تعلق صرف قرض سے نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ یہ سماجی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے اور دوسرا آدمی یہ قدرت رکھتا ہے کہ وہ اس کو اس مشکل سے نکالے اور اس کو راحت پہنچائے۔ ایسا ہر موقع آدمی کے لیے اس اعتبار سے نہایت قیمتی ہے کہ وہ اپنے بھائی پر مہربانی کر کے زیادہ بڑے پیمانے پر اپنے لیے خدا کی مہربانی حاصل کرلے۔ دوسرے کا بوجھ اتارنا اپنے انجام کے اعتبار سے اپنے بوجھ کو ہلکا کرنا ہے۔ دوسرے کے کام آنا آخر کار یہ فائدہ دیتا ہے کہ آدمی کا خود اپنا بگڑا ہوا کام بن جائے۔ جو آدمی دوسروں کی ضرورتیں پوری کرے خدا اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور زیادہ بڑے پیمانے پر اس کی ضرورتیں پوری کر دیتا ہے۔ کسی کو مشکل حالت میں دیکھ کر تڑپنا ایک اعتبار سے انسانیت کی بات ہے۔ جو شخص ایسا کرے اس نے گویا اپنے انسان ہونے کا ثبوت دیا۔ اسی کے ساتھ اس کا دوسرا عظیم تر فائدہ یہ ہے کہ ایسا کر کے آدمی اپنے آپ کو خدا کی عنایت کا مستحق بنا لیتا ہے۔ یہ گویا دنیوی عمل کی اخروی قیمت ہے اور بلاشبہ کسی انسان کے لیے اس سے بڑی اور کوئی سعادت نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page