Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 195

By Maulana Wahiduddin Khan

پابند زندگی حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــ مومن کی مثال اور ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے کھونٹی کی رسی سے بندھا ہوا گھوڑا، وہ گھومتا ہے اور پھر اپنی کھونٹی کی طرف واپس آجاتا ہے (مثل المومن ومثل الایمان کمثل الفرس فی آخیتہ یجول ثم یرجع الی آخیتہ) البیهقی، بحوالہ مشکوۃ المصابیح ۴۲۶/۲ انسان کو دنیا کی زندگی میں کھلے ہوئے گھوڑے کی طرح نہیں رہنا ہے بلکہ بندھے ہوئے گھوڑے کی طرح رہنا ہے۔ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو مقررہ اصولوں کا پابند بنائے۔ وہ ایک با اصولی انسان کی زندگی گزارے نہ کہ بے اصول انسان کی زندگی۔ یہ با اصول زندگی کیا ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی حرام اور حلال میں تمیز کرے۔ خدا نے جن چیزوں کی اجازت دی ہے ان کو استعمال کرے اور خدا نے جن چیزوں سے روکا ہے ان سے وہ اپنے آپ کو روکے رہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ تعمیری انداز میں سوچے اور تجریبی سوچ سے ہر حال میں اپنے آپ کو باز رکھے۔ وہ اپنی زبان سے صرف درست بات نکالے اور جہاں غلط بات کا موقع ہو وہاں وہ اپنی زبان کو بند کرلے۔ لوگوں سے معاملہ کرنے میں وہ انصاف کے اصولوں کی پابندی کرے، وہ کہی لوگوں کے ساتھ بے انصافی کا معاملہ نہ کرے، لوگوں کے درمیان اس کا سلوک ذمہ دارانہ سلوک ہو، غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری کی روش کو وہ ہمیشہ کے لیے ترک کردے۔ گھوڑے کو مادی رسی باندھتی ہے۔ مگر انسان کو جو چیز باندھتی ہے وہ خدا کے مقرر کیے ہوئے اخلاقی اور انسانی اصول ہیں۔ گھوڑا مجبور ہوتا ہے کہ وہ رسی کے دائرہ سے باہر نہ جائے۔ یہی کام انسان خود عائد کی ہوئی پابندی کے تحت کرتا ہے۔ انسان کی عظمت یہ ہے کہ وہ اپنی رسی آپ بن جائے۔ وہ اس پابند زندگی کو آزادانہ طور پر اختیار کرلے جس کو ایک گھوڑا مجبوران طور پر اختیار کیے ہوئے ہے۔ ناکام وہ ہے جو آزادی پا کر بے قید ہو جائے اور کامیاب وہ ہے جو آزادی کے با وجود پابند زندگی گزارے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page