Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 201

By Maulana Wahiduddin Khan

اچھا انسان، برا انسان حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو بتاؤں کہ تم میں سب سے زیادہ برے لوگ کون ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ ہاں اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا۔ تم میں سب سے زیادہ برے وہ ہیں جو چغل کرتی پھریں، جو دوستوں کے درمیان بگاڑ ڈالیں۔ جو لوگوں کے عیوب تلاش کریں (عَنِ النَّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہ قال : الا اخبرُكُم بشِراركم ، فقالوا بلی یا رسول اللّٰہ، قال : من شراركم المشاؤونَ بالنميمة، المُفسِدُونَ بينَ الاحبةِ الباغونَ العُيوب) ادب الدنیا والدین للبسری صفحہ ۲۲۲ فطرت کے نقشہ میں ہر انسانی کردار کی مثالیں موجود ہیں۔ یہ مثالیں اس لیے ہیں کہ انسان ان پر غور کرے، وہ ان سے نصیحت لے۔ اور پھر وہ اچھے کردار کو اپنائے اور جو برا کردار ہے اس سے دور رہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ دنیا میں دو قسم کی مکھیاں ہوتی ہیں۔ ایک شہد کی مکھی، جو ہمیشہ خوشبو اور مٹھاس کی تلاش میں ہوتی ہے۔ وہ جس پھول میں خوشبو اور مٹھاس دیکھتی ہے فوراً اُڑ کر وہاں پہنچ جاتی ہے۔ اس طرح وہ پھولوں کی مٹھاس لے کر اسے جمع کرتی ہے تاکہ وہ اسے دوسرے انسانوں تک پہنچا سکے۔ دوسری مثال عام مکھی کی ہے۔ اس کو گندگی سے دل چسپی ہوتی ہے۔ وہ ہر وقت اُڑتی رہتی ہے۔ صرف اس لیے کہ جہاں وہ گندگی پائے وہاں پہنچ کر اس سے اپنا حصہ وصول کرے۔ اسی طرح انسانوں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ انسان جو بھلائی کو پسند کرتا ہو۔ وہ لوگوں کے درمیان جائے تو ان سے ان کی بھلی باتوں کو لے اور اسے دوسروں تک پہنچائے۔ وہ لوگوں کے درمیان اچھی اور بھلی باتوں کا سفیر بن جائے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو بہتر انسان کہا جائے۔ ایسا انسان فطرت کا مطلوب انسان ہے۔ فطرت کے تمام اعلیٰ امکانات ایسے ہی لوگوں کے لیے مقدر کیے گئے ہیں۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کی روح کو برائیوں کے تذکرہ سے غذا ملتی ہو۔ ایسا انسان جب لوگوں سے ملتا ہے تو اس کی ساری دل چسپی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کی برائیوں کو تلاش کرے اور اگر کوئی برائی نہ ملے تو فرضی طور پر خود ساختہ برائیوں کو ان کی طرف منسوب کر دے، اور پھر ان فرضی یا واقعی برائیوں کو لوگوں سے بیان کرتا رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page