دین رحمت
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
فخر و ناز حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فخر و ناز نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو (إن العجب ليأكل الحسنات كما تأكل النار الحطب) ادب الدنیا والدین للبصری صفحہ ۱۳ انسان کے اندر فطری طور پر انا کا جذبہ رکھا گیا ہے، اکوٹی بھی شخص" میں" کے اس احساس سے خالی نہیں۔ یہ جذبہ انسان کے لیے ایک قیمتی سرمایہی ہے، وہ اس لیے ہے کہ آدمی کے اندر عزم وہمت پیدا ہو۔ وہ جوکھم کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے سفر کو جاری رکھے ۔ وہ خود اعتمادی کی طاقت سے مسلسل آگے بڑھتا ہے۔ مگر اکثر لوگ اس جذبہ کا برا استعمال کرتے ہیں۔ ان کا انا کا جذبہ خود اعتمادی کے بجائے خود پسندی اور ذاتی فخر کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ انا کے جذبہ کا غلط استعمال ہے۔ اور کسی چیز کا غلط استعمال ہمیشہ اس کو برا بنا دیتا ہے ، خواہ حقیقت کے اعتبار سے وہ چیز کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔ فخر و ناز کا جذبہ کوئی سادہ چیز نہیں۔ وہ انسان کی تمام خوبیوں کو کھا جاتا ہے، وہ انسان کے اندر اعلیٰ خصوصیات کے ارتقا ر میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ فخر کی نفسیات آدمی کو خود پسند بنا دیتی ہے، اور جو آدمی خود پسند ہو جائے اس نے گویا اپنے آپ کو ذاتی خول میں بند کر لیا۔ ایسا آدمی اس صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے کہ وہ خارجی حقیقتوں کو سمجھے ، وہ دوسروں سے فائدہ اٹھائے، وہ اپنے سے باہر کی چیزوں کو اپنی ترقی کا زینہ بنا سکے۔ ایسا آدمی کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو اس میں بھی اس کا فخر کا جذبہ شامل رہتا ہے۔ وہ جو کچھ کرتا ہے خود نمائی کے لیے کرتا ہے۔ اس کی سرگرمیوں کا محور اس کی اپنی ذات بن جاتی ہے، حالانکہ صحیح یہ ہے کہ آدمی کی سرگرمیوں کا محور وہ حقیقت ہو جو اس کے باہر اعلیٰ سطح پر قائم ہے۔ فطرت انسان کے اندر تواضع دیکھنا چاہتی ہے۔ لیکن فخر پسند آدمی کبری تصویر بنا ہوا ہوتا ہے۔ فطرت حقیقتوں کے اعتراف کو پسند کرتی ہے۔ مگر ایسا آدمی بے اعترافی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ فطرت تمام انسانوں کو ایک نظر سے دیکھتی ہے اور ایسا آدمی چاہتا ہے کہ اس کو استثنائی مقام دیا جائے۔ فطرت کے ساتھ اس قسم کی عدم مطابقت موجودہ دنیا میں قابل عمل نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader