دین رحمت
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
غصہ نہیں حدیث میں ہے کہ ایک شخص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اے خدا کے رسول! مجھے کچھ ایسی باتیں بتائیے جن کے تحت میں زندگی گزاروں اور وہ زیادہ نہ ہوں کہ میں بھول جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ تم غصہ نہ کرو (عن حمید بن عبد الرحمن بن عوف أن رجلاً أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يارسول الله علمنى كلمات اعيش بهنَّ ولا تكثر على فانّسى، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلّم "لا تغضب") موطا امام مالک ، صفحہ ۱۵۲ غصہ تمام انسانی خرابیوں کی جڑ ہے۔ جو آدمی اپنے غصہ پر قابو پالے وہ بقیہ تمام خرابیوں سے اپنے آپ بچ جائے گا۔ کسی آدمی کو اگر صرف ایک جامع اور کلیدی نصیحت کرنی ہو تو وہ صرف یہ ہوگی اپنے آپ کو غصہ سے بچاؤ۔ غصہ کا مزاج ہر انسان میں ہوتا ہے۔ مگر عام حالات میں غصہ آدمی کے اندر رسویا ہوا ہوتا ہے۔ یہ غصہ صرف اس وقت جاگتا ہے جبکہ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آکر اس کو جگا دے۔ دنیا کی زندگی میں یہی آدمی کا امتحان ہے جب وہ کسی کی زبان سے کڑوی بات سنے اور اس کے سینہ میں غصہ کی آگ بھڑک اٹھے تو آدمی کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ غصہ کی آگ کو بجھائے نہ یہ کہ غصہ کی آگ کو اتنا بھڑکا دے کہ خود بھی اس میں جل کر ختم ہو جائے۔ کامیاب انسان وہ ہے جس کا یہ حال ہو کہ غصہ کے حالات میں بھی وہ غصہ نہ کرے۔ اشتعال انگیزی کے باوجود وہ مشتعل نہ ہو۔ ایسا آدمی معاملہ کو بڑھائے بغیر ابتدا ہی مرحلہ ہی میں اس کو ختم کر دے گا۔ غصہ نہ کرنے کی عادت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آدمی اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو بے فائدہ طور پر ضائع ہونے سے بچا لیتا ہے۔ وہ ناموافق حالات میں بھی اپنے لیے موافق امکانات دریافت کر لیتا ہے۔ غصہ نہ کرنا عالی ظرفی کی علامت ہے۔ اس کے مقابلہ میں جو آدمی غصہ کرے وہ اپنے اس عمل سے اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ ظرف کی بلندی کی صفت اس کے اندر موجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader