دین رحمت
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کو ستانا حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ خدا کے بندوں کو تکلیف نہ دو، اور ان کو عار نہ دلاؤ۔ اور ان کی پوشیدہ باتوں کو تلاش نہ کرو (لا تحقّو ابعاد اللہ ولا تعتیو وهم ولا تطلبوا عورتهم) مسند احمد، بحوالہ جامع العلوم والحکم، صفحہ ۲۹۴ اچھا انسانی سماج بنانے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے اندر اخلاقی احساس زندہ ہو۔ وہ دوسروں کی رعایت کرنا جانتے ہوں، وہ اپنے اوپر دوسروں کا یہ حق سمجھتے ہوں کہ انھیں دوسروں کے لیے ہرگز مسئلہ نہیں بننا ہے، حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کے پاس بظاہر اس کے لیے کوئی عذر موجود ہو۔ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ سماج کے اندر اس طرح رہے کہ اس سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اس کو اپنی زبان سے ایسے الفاظ نہیں نکالنے چاہئیں جس سے دوسروں کے جذبات مجروح ہونے والے ہوں ۔ اس کو ایسی کوئی کارروائی نہیں کرنی چاہیے جس میں اس کی اپنی ذات کے لیے تو فائدہ ہو مگر دوسروں کے لیے وہ نقصان کا سبب بن جائے۔ ایسا ہر قول اور عمل گو یا دوسروں کو ستانا ہے اور جو آدمی دوسرے انسانوں کو ستائے وہ ایک بے قیمت آدمی ہے خدا کی نظر میں بھی اور بندوں کی نظر میں بھی۔ آدمی کے ساتھ کبھی ایسا واقعہ پیش آتا ہے یا اس سے کوئی ایسی غلطی ہو جاتی ہے جس کے بارہ میں اس کو شرمندگی کا احساس ہوتا ہے۔ ایسی بات کا تذکرہ کر کے اس کو عار دلانا درست نہیں تم وہی تو ہو جس نے ایسا کیا یا جس کے باپ نے ایسا کیا، اس قسم کی باتیں کہہ کر کسی کو شرمندہ کرنا ایک غیر انسانی فعل ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دوسرے کی عزت و حرمت کا بھی اتنا ہی لحاظ کرے جتنا وہ خود اپنی عزت و حرمت کا لحاظ کرتا ہے۔ ہر آدمی کی کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں، جن کو وہ پوشیدہ رکھنا چاہتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ دوسرے لوگ اسے جانیں۔ جو شخص لوگوں کی ایسی باتوں کے پیچھے پڑے، وہ کھود کرید کر ان کا پتہ لگائے اور لوگوں کے درمیان ان کو پھیلائے، وہ ایک ایسا غیر اخلاقی فعل کرتا ہے جو اچھا سماج بنانے کی راہ میں مستقل رکاوٹ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader