دین رحمت
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
عفو و تواضع پیغمبر اسلام صلے اللہ علیہ وسلم نے جس طرح عبادت کے وہ طریقے بتائے جن کو اپنا کر آدمی خدا کی نظر میں پسندیدہ بن سکتا ہے ، اسی طرح آپ نے وہ اخلاقی اصول بھی بتائے ہیں جن کو اگر اختیار کر لیا جائے تو انسان دوسرے انسانوں کے درمیان عزت اور سربلندی کا مقام حاصل کر سکتا ہے ۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے : وما زاد الله عبداً بعفو إلا عزاً، وما | اور اللہ تعالی معاف کرنے والے کی صرف عزت تواضع أحد لله عز وجل إلا رفعه الله تعالى | کو بڑھاتا ہے اور جو شخص خدا کے لیے تواضع اختیار (تفسیر ابن کثیر ۲ / ۱۸۲) | کرے اس کو خدا صرف اونچا ہی کرتا ہے۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص برائی کرے اور اس سے بدلہ نہ لیا جائے تو وہ دلیر ہو جائے گا اور پہلے سے زیادہ برائی کرے گا۔ مگر حدیث رسول اس کے برعکس یہ بتاتی ہے کہ جو شخص برائی کرنے والے کو معاف کر دے تو اس کے بعد معاف کرنے والے کی عزت میں اور اضافہ ہو جائے گا ۔ اسی طرح عام آدمی یہ سمجھتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں کبھی جھکنا نہیں چاہیے ۔ اگر جھکے تو لوگ اور زیادہ جھکنے کی کوشش کریں گے ۔ مگر پیغمبر اسلام صلے اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تواضع کا انداز اختیار کرو ۔ اگر تم تواضع کا انداز اختیار کرو گے تو حق خدا کی مدد سے تم کو اور زیادہ سر بلندی حاصل ہوگی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عفو اور تواضع کا طریقہ فطرت کو اپیل کرتا ہے ۔ اس کے اندر انسان کو مسخر کرنے کی طاقت ہے ۔ وہ انسان کو اندر سے زیر کر دینے والا ہے ۔ جو شخص عفو اور تواضع کا طریقہ اختیار کرے اس نے گویا اس فطرت کو مخاطب بنایا جو ہر آدمی کے اندر اس کے خالق نے رکھ دی ہے ۔ جو عین اپنی سرشت کے مطابق حق کے آگے جھکنے اور صاحب حق کا اعتراف کرنے کا مزاج رکھتی ہے ۔ فطرت فریق ثانی کے اندر آپ کا نمائندہ ہے ۔ جب آپ عفو اور تواضع کا طریقہ اختیار کرتے ہیں تو اپنے اس نمائندہ کو آپ اپنی حمایت میں کھڑا کر لیتے ہیں ۔ اور اس سے زیادہ طاقت ور حمایت کیا ہو سکتی ہے کہ خود فریق ثانی کے اندر آپ کا ایک حامی کھڑا ہو جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader