Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 212

By Maulana Wahiduddin Khan

شکر گزاری عن ابی ھریرۃ، قال قال رسول الله صلّی اللہ ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم، من لم يشكر الناس علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو آدمی لوگوں کا شکر نہ کرے لَم يَشكُرِ اللہ (رواه احمد والترمذی) وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرے گا۔ شکر ایک کیفیت کا نام ہے۔ یہ کیفیت کسی آدمی کے دل میں پیدا ہو جائے تو وہ منقسم ہو کر نہیں رہ سکتی۔ اگر وہ ایک معاملہ میں ظاہر ہو گی تو یہ ناممکن ہے کہ وہ اسی قسم کے دوسرے معاملہ میں ظاہر نہ ہو۔ جب آدمی ایک کا شکر گزار ہو گا تو وہ دوسرے کا بھی درست شکر گزار ہوگا۔ بندہ کا احسان آنکھ سے دکھائی دیتا ہے، وہ ایک براہ راست تجربہ ہے۔ اس کے برعکس خدا کا جو احسان ہے وہ ظاہری آنکھ سے دکھائی نہیں دیتا، وہ آدمی کے لیے براہ راست تجربہ نہیں۔ خدا کے احسان کو سوچ کر جاننا پڑتا ہے۔ بندہ کے احسان کو آدمی بذریعہ مشاہدہ جانتا ہے اور خدا کے احسان کو بذریعہ تفکر۔ جو آدمی براہ راست مشاہدہ میں آنے والے واقعہ کا احساس نہ کر سکے ، وہ ایسے واقعہ کو کیوں کر محسوس کرے گا جس کو حرف بالواسطہ غور و فکر کے ذریعہ معلوم کیا جا سکتا ہے۔ کوئی احسان کرنے والا جب احسان کرتا ہے تو آدمی اس کے احسان کا اعتراف اس لیے نہیں کرتا تاکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح میں محسن کے مقابلہ میں چھوٹا ہو جاؤں گا۔ حالاں کہ ایسا کر کے وہ خود اپنا نقصان کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے ضمیر کی نگاہ میں چھوٹا ہو جاتا ہے ۔ وہ اپنے ضمیر کے نزدیک کم بن جاتا ہے ۔ اور بلاشبہ اپنے ضمیر کے نزدیک کم ہونا ، دوسرے کے نزدیک کم ہونے سے زیادہ سخت ہے ۔ اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ بندوں کے احسان نہ ماننے سے آدمی کے اندر بے اعترانی کا مزاج بنتا ہے ۔ اولاً وہ انسان کا اعتراف نہیں کرتا۔ اور اس کے بعد اس کا بگڑا ہوا مزاج اس کو یہاں تک لے جاتا ہے کہ وہ ربُّ العالمين کا بھی سچا اعتراف نہیں کر پاتا۔ اور بلاشبہ اس سے زیادہ گھاٹا اٹھانے والا اور کوئی نہیں جو اپنے رب کا اعتراف کرنے سے عاجز رہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page