Urdu book · اسلام ایک تعارف

حکمتِ اسلام

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

دو طریقے عن عبد الله بن عمر وقال قال رسول الله عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ صلى الله عليه وسلم : لا يؤمن أحدكم حتى علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا يكون هواه تبعاً لما جئت به یہاں تک کہ اس کی خواہش اس چیز کے تابع ہو جائے (مشكاة المصابيح (۵۹/۱ جو میں لایا ہوں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں عمل کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے ہوئی (اپنی خواہش) پر عمل کرنا، اور دوسرا ہے ماجارہ الرسول (پیغمبر کے لائے ہوئے دین) پر عمل کرنا۔ آپ کے سامنے ایک حق آیا۔ آپ کے دل نے گواہی دی کہ یہ حق ہے۔ مگر اسی کے ساتھ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ احساس پیدا ہوا کہ اگر میں اس حق کا اعتراف کر لوں تو میرا درجہ نیچا ہو جائے گا۔ اب اگر آپ نے حق کو مان لیا تو آپ نے ماجارہ الرسول پر عمل کیا اور اگر آپ نے حق کا انکار کیا تو آپ نے اپنی ہوئی کی پیروی کی۔ ایک شخص نے آپ کے اوپر تنقید کی۔ اس سے آپ کی انا کو چوٹ لگی۔ آپ برہم ہو گئے ۔ اسی کے ساتھ رسول کی لائی ہوئی شریعت کا یہ حکم آپ کے سامنے آیا کہ متکبر نہ بنو بلکہ متواضع بن کر لوگوں کے درمیان رہو۔ اب اگر آپ نے تنقید کے جواب میں تواضع کا انداز اختیار کیا تو آپ نے ماجارہ الرسول پر عمل کیا اور اگر آپ نے تنقید کے جواب میں گھمنڈ کا انداز اختیار کیا تو آپ نے ہوئی کی پیروی کی۔ ایک شخص کے کسی رویہ سے آپ کو شکایت پیدا ہوئی۔ آپ مشتعل ہو گئے۔ اس وقت آپ کے سامنے شریعت کا یہ حکم آیا کہ لوگ اشتعال انگیزی کریں تب بھی تم صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ اب اگر آپ نے اشتعال کے باوجود صبر کیا تو آپ نے ماجارہ الرسول پر عمل کیا۔ اور اگر آپ مشتعل ہو کر فریق ثانی سے لڑنے لگے تو آپ نے ہوئی کی پیروی کی۔ یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے۔ ہر معاملہ جو آدمی کے ساتھ پیش آتا ہے، اس میں اس کے لیے دو میں سے ایک رویہ اختیار کرنے کا موقع ہوتا ہے۔ ایک رویہ اختیار کرنے کے بعد وہ خدا کے یہاں مومن لکھ دیا جاتا ہے اور دوسرا رویہ اختیار کرنے کے بعد غیر مومن۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page