Urdu book · اسلام ایک تعارف

حکمتِ اسلام

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

اخلاقی انحراف ہر انسان اپنی اندرونی شخصیت کے اعتبار سے انسان ہے، خواہ بظاہر وہ کچھ بھی دکھائی دیتا ہو۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے تمام انسانوں کو صحیح اور درست فطرت پر پیدا کیا ہے (الروم ۳۰) یہی بات حدیث میں اس طرح آئی ہے : ما من مولود الا یولد علی الفطرۃ ہر آدمی جو پیدا ہوتا ہے وہ فطرت ہی پر پیدا ہوتا فابوہ یہودانہ وینصرانہ ومجسانہ۔ ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کی فطرت صرف خدا کے مطلوب دین کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، وہ پیدائشی طور پر اس کی طرف مائل ہے۔ کوئی شخص جب کسی غیر مطلوب دین کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی فطرت سے منحرف ہو کر ایسا کرتا ہے، ایسا اختیار اس کے لیے مذہبی انحراف کے ہم معنی ہے۔ یہی بات انسانی اور اخلاقی پہلو سے بھی درست ہے۔ آدمی پیدائشی طور پر انسانی قدروں کا تصور لیے ہوئے ہے۔ تخلیقی اعتبار سے وہ ایک با اخلاق انسان ہے۔ وہ حق کا اعتراف کرنے والا ہے۔ دوسروں کے لیے اس کے دل میں خیر خواہی کا جذبہ موجود ہے۔ وہ دوسروں کو سکھ پہنچانا چاہتا ہے۔ دوسروں کے لیے نفع بخش بننا اس کے لیے خوشی کا باعث ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی جب دوسروں کے ساتھ برائی کرتا ہے تو یہ اس کے لیے اپنی فطرت کی خلاف ورزی کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔ اس قسم کا ہر فعل آدمی کے لیے گویا اخلاقی انحراف ہے۔ جب صورت حال یہ ہے تو آپ کے لیے دوسروں کے ضرر سے بچنے کی آسان تدبیر یہ ہے کہ اس کو اخلاقی انحراف میں مبتلا ہونے سے بچائیں ۔ اس کو اپنے فطری اخلاق پر رہنے دیں۔ ہر آدمی پیدائشی طور پر آپ کا دوست ہے۔ وہ دشمن صرف اس وقت بنتا ہے جبکہ اس کو اس کی فطرت سے ہٹا دیا جائے۔ قرآن وحدیث کی شہادت کے مطابق ، ہر آدمی ایک ہی فطرت پر پیدا ہوا ہے۔ ہر آدمی اپنے اندر صحیح شخصیت لیے ہوئے ہے۔ اس فطری شخصیت کے اوپر سے اس کا پردہ ہٹا دیجیے، اور پھر ہر آدمی آپ کا مطلوب انسان ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page