حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 222
By Maulana Wahiduddin Khan
حالات کی رعایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی تو آپ کو خدا کی طرف سے حکم دیا گیا کہ ایک خدا کی عبادت کرو اور خدا کے پیغام کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا کہ فوراً کھلے مقامات پر آجائیں ، سب کے سامنے نماز پڑھیں یا بلند آواز سے لوگوں کو خدا کی طرف پکارنا شروع کر دیں۔ اس کے برعکس آپ نے ابتدائی چند سال تک چپ چپ کر نماز پڑھی اور انفرادی ملاقاتوں کے ذریعہ خفیہ انداز میں تبلیغ کی۔ یہ حالات کی رعایت تھی۔ حالات کی رعایت اسلام کا ایک اہم اصول ہے۔ قرآن و حدیث میں کوئی حکم مطلق انداز میں دیا گیا ہو تب بھی یہ دیکھنا ہو گا کہ ہمارے حالات کے لحاظ سے اس کی تعمیل کا حکیمانہ طریقہ کیا ہے۔ حالات کے اعتبار سے جو قابلِ عمل صورت ہو اسی کے مطابق حکم کی تعمیل کی جائے گی۔ حالات کو نظر انداز کرتے ہوئے آزادانہ انداز اختیار کرنا نہ اسلام کا طریقہ ہے اور نہ پیغمبر اسلام کی سنت۔ اس طریقہ کو دوسرے الفاظ میں فطری طریقہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس دنیا میں کسی بھی معاملہ میں نتیجہ خیز جدوجہد وہی ہو سکتی ہے جس میں حالات کی پوری رعایت شامل ہو۔ حالات کی رعایت نہ کرنا فطرت سے ٹکرانا ہے اور فطرت سے ٹکرانے کی تعلیم اسلام میں نہیں دی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری ۲۳ سال کی پیغمبرانہ مدت میں اسی طرح حالات کی رعایت سے کام کیا۔ آئندہ بھی آپ کے ماننے والوں کے لیے یہی صحیح طریقہ ہے کہ وہ جس ماحول میں ہوں اس کو سمجھیں اور اس کو بخوبی سمجھ کر حالات کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں ۔ اس کے بغیر انھیں خدا کی نصرت نہیں مل سکتی۔ حالات کی رعایت ، دوسرے لفظوں میں فطرت کی رعایت ہے۔ اس دنیا کے خالق نے جس قانون کے تحت اپنی دنیا کو بنایا ہے، اس سے مطابقت کرنے کا نام حالات کی رعایت ہے۔ یہ رعایت کسی مقصد میں کامیابی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے، خواہ وہ مقصد دین سے تعلق رکھتا ہو یا دنیا سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader