Urdu book · اسلام ایک تعارف

حکمتِ اسلام

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

حکمت کا سرچشمہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ جب بھی کوئی بندہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتا ہے تو خدا اس کے دل میں حکمت آگا دیتا ہے ۔ اور اس کی زبان پر حکمت جاری کر دیتا ہے ۔ اور اس کو دنیا کا عیب اور اس کا مرض اور اس کا علاج دکھا دیتا ہے، اور اس کو حفاظت کے ساتھ سلامتی کے گھر تک پہنچا دیتا ہے (ما زہد عبدٌ فی الدنیا الاّ أنبت الله الحکمة فی قلبه ، وانطق بھا لسانہ ، وبصرہ عیب الدنیا ودائھا ودواء ھا ، واخرجھـا منہ سالماً الی دار السّلام) البيهقی بحوالہ مشکوۃ المصابیح، صفحہ ۱۳۳۵ حکمت کیا ہے ، حکمت دراصل حقیقت پسندی اور دور اندیشی کا دوسرا نام ہے۔ کسی شخص کا ذہنی ارتقاء جب اس حد تک پہنچ جائے کہ وہ مسائل کا بے لاگ جائزہ لے سکے اور ان کے بارہ میں گہری بنیادوں پر فیصلہ کرنے لگے تو اسی کا نام حکمت ہے۔ اس حکمت کا سرچشمہ دنیا سے بے رغبتی ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے اوپر دنیا کی کسی چیز کی محبت اتنی غالب آتی ہے کہ وہ اس کو باتوں کی حقیقت سمجھنے کے لیے اندھا بہرا بنا دیتی ہے ۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی تجربہ اس کو کچھ لوگوں کے معاملہ میں بغض کی نفسیات میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ایسا آدمی اپنے بغض کی بنا پر اس قابل نہیں رہتا کہ وہ معاملہ کو اس کی اصل صورت میں دیکھ سکے ۔ جو آدمی اس قسم کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھے جیسا کہ وہ ہیں ۔ وہ ان کے بارے میں وہی رائے قائم کرے جو از روئے حقیقت ہونا چاہیے ۔ ان کے مقابلہ میں وہ ہی صحیح ترین روش اختیار کرے جو حق اور انصاف کا تقاضا ہے۔ زہد یا دنیا سے بے رغبتی آدمی کو بے پناہ بنا دیتی ہے۔ ایسا آدمی عقلی اعتبار سے ایک ترقی یافتہ انسان ہوتا ہے۔ اپنے مزاج کے اعتبار سے وہ حقیقت پسند ہوتا ہے اور اپنے اقدام کے بارے میں سنجیدہ اور محتاط ۔ جو لوگ اس بلند کردار کے حامل ہوں ان کے لیے یہی مقدر رہے کہ وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوں اور آخرت میں بھی کامیاب۔ زہد ترک دنیا نہیں، وہ ذہنی ارتقاء کا ذریعہ ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page