Urdu book · اسلام ایک تعارف

حکمتِ اسلام

Urdu book, p. 237

By Maulana Wahiduddin Khan

صلح بہتر ہے قرآن میں عورت اور مرد کے تعلقات کے بارے میں حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بدسلوکی یا بے رخی کا اندیشہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں آپس میں کوئی صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے۔ اور ححرص انسان کی طبیعت میں بسی ہوئی ہے۔ اور اگر تم اچھا سلوک کرو اور خدا ترسی سے کام لو۔ تو جو کچھ تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے (النسا ۱۲۸) صلح بہتر ہے (الصلح خیر) ایک عام فطری اصول ہے۔ اس کا تعلق گھر کے مسائل سے بھی ہے اور بین اقوامی سطح پر پیش آنے والے معاملات سے بھی ہے۔ جب بھی کسی فرد یا گروہ کو دوسرے فرد یا گروہ کی طرف سے کوئی ناخوش گوار تجربہ پیش آئے تو ایسے موقع پر عقل مندی یہ ہے کہ اس کے جواب میں رد عمل کا انداز اختیار نہ کیا جائے۔ ایسے مواقع پر بہتر طریقہ صلح کا ہے نہ کہ نزاع کا۔ نزاعی امور میں صلح کی پالیسی کوئی پسپائی یا بزدلی نہیں ہے۔ اس کا مقصد در اصل یہ ہے کہ اپنے وقت اور قوت کو بے فائدہ طور پر ضائع کرنے سے بچایا جائے اور اس کو مفید استعمال کی طرف موڑ دیا جائے۔ صلح کا الٹا رویر جنگ ہے۔ جنگ یا ئلکہ او کا نتیجہ ہوتا ہے کہ جہاں دو فریقوں کے درمیان نزاع کی صورت پیش آئی ہے، دونوں فریق بس وہیں ٹھہر جائیں۔ وہ اپنے سفر کو تمام نزاع پر روک دیں۔ اس کے برعکس ایسے معاملات میں صلح کی پالیسی اختیار کرنا آدمی کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے سفر کو روکے بغیر مسلسل اسے جاری رکھے۔ وہ کسی وقفے کے بغیر چلتا رہے یہاں تک کہ وہ اپنی آخری منزل کو پہنچ جائے۔ صلح کا طاریت وقتی طور پر کھونے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر حال سے نظریں ہٹا کر آنے والے مستقبل کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ مکمل طور پر پانے کا طاریت ہے۔ آخری نتیجے کے اعتبار سے صلح کی پالیسی ہمیشہ کامیابی کا سبب بنتی ہے ، اور ٹکرائو کی پالیسی ہمیشہ تباہی اور ناکامی کا سبب ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page