حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
چھوٹے شر کا انتخاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں ایک سنگین مسئلہ وہ تھا جس کو عبداللہ بن ابی کی صورت میں جانا جاتا ہے ۔ وہ قبیلہ خزرج کا بڑا سردار تھا۔ اسلام کے خلاف وہ اتنا زیادہ بڑا مسئلہ تھا کہ خود اس کا مسلمان بیٹا عبداللہ اس کے قتل کے لیے تیار ہو گیا تھا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل نہیں کروایا۔ یہاں تک کہ وہ ۹ھ ( ۶۳۰ء) میں اپنی طبعی موت مرا۔ عبد اللہ بن ابی کے معاملہ میں صبر و برداشت کی اس غیر معمولی پالیسی کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ عبد اللہ بن ابی کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں تھا۔ اس وقت کی صورتِ حال بتارہی تھی کہ یہ صرف زندہ عبد اللہ اور مردہ عبداللہ کے درمیان انتخاب کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یہاں ایک تیسری شدید تر صورت بھی ہے ۔ اور وہ یہ کہ اگر اس کو قتل کر دیا گیا تو یقینی طور پر قبائلی عصبیت جاگ اٹھے گی۔ بہت سے لوگ اس کے خون کا انتقام لینے کے در پے ہو جائیں گے۔ اس طرح عبداللہ بن ابی کو قتل کرکے عملی اس کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ ایک اور شدید تر برائی جاگ اٹھے گی ۔ اور وہ اپنے مقتول سردار کا انتقام ہے۔ اس اندیشہ کی پیشگی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ تھی کہ غزوہ احد کے موقع پر اس نے جنگ میں عدم شرکت کا فیصلہ کیا تو اس کے قبیلہ کے تین سو آدمیوں نے عبداللہ بن ابی کے ساتھ شریک ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی کے معاملہ میں اس وقت جو انتخاب تھا وہ زندہ دشمن اور مردہ دشمن کے درمیان نہیں تھا بلکہ وہ مردہ دشمن اور اس کے بعد ظاہر ہونے والے انتقامی ردعمل کے درمیان تھا۔ ایسی حالت میں زندہ دشمن چھوٹا شر تھا اور مردہ دشمن انتقامی ردعمل کی صورت میں زیادہ بڑا شر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے شر سے بچنے کے لیے چھوٹے شر کو گوار کر لیا۔ زندگی خیرو شر کے درمیان انتخاب کا نام نہیں۔ زندگی چھوٹے شر اور بڑے شر کے درمیان انتخاب کا نام ہے۔ کامیاب وہ ہے جو اس حقیقت کو جان لے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader