Urdu book · اسلام ایک تعارف

حکمتِ اسلام

Urdu book, p. 256

By Maulana Wahiduddin Khan

ضرورت نہ کہ حرص حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ جو آدمی بقدر ضرورت پر قناعت نہ کرے تو وہ ساری زندگی غیر مطمئن حالت میں رہے گا (من لا يجد بيه من العيش ما يكفيه، لم يجد ما عاش ما يفنيه) ادب الدنیا والدین للبصری، صفحہ ۲۹۹ مطمئن زندگی کا تعلق زیادہ سے نہیں ہے، بلکہ قناعت سے ہے۔ جو آدمی ضرورت کے بقدر پا کر مطمئن ہو جائے، وہ ہی اس نعمت کو پاسکتا ہے جس کو اطمینان کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی ضرورت کے بجائے خواہش کو اپنا معیار بنائے وہ کبھی اطمینان کی زندگی نہیں پاسکتا۔ کیوں کہ ضرورت کی ایک حد ہے، مگر خواہش اور حرص کی کوئی حد نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ضرورت اور حرص میں فرق کرے۔ وہ اپنی جدوجہد کا نشانہ ضرورت کی تکمیل کو بنائے نہ کہ خواہش کی تکمیل کو۔ جب ضرورت کو نشانہ بنایا جائے تو ہر چیز اپنی فطری جگہ پر رہیتی ہے۔ آدمی ضرورت کی فراہمی کے بعد اس کا وقت پالیتا ہے کہ وہ زندگی کے اعلیٰ مقاصد میں بھی اپنے آپ کو مصروف کر سکے۔ اس کے برعکس جب ضرورت کے بجائے حرص کو نشانہ بنالیا جائے تو آدمی صرف کمانے والا حیوان بن جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی ایسا وقت نہیں بچتا جس میں وہ اعلیٰ انسانی تقاضوں کی تکمیل میں اپنا حصہ ادا کر سکے۔ ضرورت کو نشانہ بنانے کی صورت میں زندگی کا نظام اپنے فطری دائرہ میں ہوتا ہے۔ اس کے بجائے جب ضرورت کی حد سامنے نہ رکھی جائے بلکہ اپنی خواہش کو اپنا رہنما بنالیا جائے تو زندگی کا فطری نقشہ بگڑ جاتا ہے۔ اور اس دنیا میں پُرعافیت زندگی وہی ہے جو فطرت کے نقشہ پر گزاری جائے ۔ حرص کا معاملہ ہمیشہ مادی چیزوں میں پیش آتا ہے، نہ کہ اعلیٰ اقدار میں۔ ایسی حالت میں جو آدمی اپنی حرص کے پیچھے دوڑے اس نے گویا اپنی آدمیت کو گھٹالیا۔ کیوں کہ مادی ضروریات آدمی کی زندگی کا جزء، ہیں نہ کہ کل۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اعلیٰ انسانی مقاصد کو اپنی زندگی میں پہلی اہمیت کا درجہ دے اور مادی چیزوں کی فراہمی کو دوسرے درجہ میں رکھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page