Urdu book · اسلام ایک تعارف

حکمتِ اسلام

Urdu book, p. 257

By Maulana Wahiduddin Khan

زہد کا فائدہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، تم خدا کے محبوب بن جاؤ گے۔ لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے رغبت ہو جاؤ، تم لوگوں کے محبوب بن جاؤ گے (ازھد فی الدنیا يحبك الله وازهـد فيما في ايدى الناس يحبك الناس) (ادب الدنیا والدین، ۳۰۱) عزت و محبت کا راز بے نیازی ہے۔ آدمی کے اندر جتنا زیادہ بے نیازی کی کیفیت پیدا ہوگی اتنا ہی زیادہ لوگوں کے لیے اس کی کشش بڑھتی چلی جائے گی۔ خدا سے قریب ہونے کا راز دوسروں سے دور ہونا ہے۔ آدمی جتنا زیادہ دوسری چیزوں سے بے رغبت ہو گا اتنا ہی زیادہ وہ خدا کے بارے میں سوچے گا اور خدائی چیزوں میں مشغول ہوگا۔ اس کے برعکس آدمی جتنا زیادہ دوسری چیزوں میں اپنا دل لگائے گا اتنا ہی وہ خدا کی طرف سے غفلت میں پڑ جائے گا۔ دوسری چیزوں سے تعلق کا بڑھنا خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو گھٹانا ہے۔ اسی طرح خدا سے اپنے تعلق کو بڑھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا قلبی تعلق دوسری چیزوں کے ساتھ باقی نہیں رہتا۔ لوگ ایسے آدمی کی عزت کرتے ہیں جس کو وہ اپنے سے اونچا سمجھتے ہوں۔ جو آدمی انھیں اپنے برابر یا اپنے سے کم دکھائی دے اس کے لیے لوگوں کے اندر عزت و قدر دانی کا اعلیٰ جذبہ پیدا نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جو آدمی سماج میں اس طرح رہے کہ وہ دوسروں سے بے نیاز بنا ہوا ہو، وہ دوسروں سے کسی چیز کا امیدوار نہ ہو، ایسا انسان اپنے آپ دوسروں کے درمیان اونچا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ کسی کوشش کے بغیر وہ دوسروں کی نظر میں محرم بن جاتا ہے۔ دنیا کی چیزوں سے بے رغبتی آدمی کو بیک وقت دو فائدے دیتی ہے۔ ایک طرف وہ پرعافیت زندگی کا مالک بن جاتا ہے، وہ اعلیٰ حقیقتوں میں جینے لگتا ہے۔ دوسری طرف یہ ہوتا ہے کہ سماج کے درمیان اپنے آپ عزت و احترام کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی نظر میں بھی باعزت آدمی بن جاتا ہے اور دوسروں کی نظر میں بھی۔ زاہدانہ زندگی نام ہے چھوٹی چیز کو کھو کر زیادہ بڑی چیز کو پالینا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page