حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 258
By Maulana Wahiduddin Khan
علم کی اہمیت حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم خزانہ کی مانند ہے اور اس کی کنجی سوال ہے۔ اللہ تم پر رحم کرے تم سوال کیا کرو کیونکہ علم میں تین لوگ اجر پاتے ہیں ۔ کہنے والا، سننے والا اور لینے والا (العلم خزائن و مفتاحه المسألة ، فاسألوا رحمكم الله ، فانما يؤجر في العلم ثلاثة : القائل والمستمع والأخذ) ادب الدنیا والدین للبصری ، صفحہ ۵۰۔ علم کی دنیا ایک لامحدود دنیا ہے۔ یہ دنیا معلومات کے خزانہ سے بھری ہوئی ہے۔ کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جو سارے علوم اور تمام معلومات اپنے دماغ میں بھرے ہوئے ہو۔ کسی کے پاس اس کا کچھ حصہ ہے اور کسی کے پاس اس کا کچھ۔ مختلف انسانوں کے پاس جمع شدہ یہ خزانہ آپ کو کس طرح ملے ، اس کی صورت صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آپ اس کے طالب بن جائیں۔ آپ کے دل میں ان کو حاصل کرنے کا بے پناہ شوق پیدا ہوجائے۔ جب ایسا ہوگا تو آپ لوگوں سے پوچھنے لگیں گے تاکہ ان کے پاس جمع شدہ معلومات کو لے کر اپنے علمی ذخیرہ کو بڑھائیں۔ آپ اہل علم کی کتابیں پڑھیں گے تاکہ ان کے اندر علم کا جو خزانہ بند ہے ، اپنے آپ کو اس کا حصہ دار بنا سکیں۔ انسان کی ساری اہمیت علم کے اعتبار سے ہے۔ جو انسان جتنا زیادہ علم والا ہوگا اتنا ہی زیادہ وہ قابل قدر ہوگا۔ زندگی کی ہر ترقی براہ راست طور پر علم سے جڑی ہوتی ہے ، جتنا زیادہ علم اتنا ہی زیادہ ترقی۔ علم کے معاملہ میں ہر آدمی کی تین میں سے کوئی ایک حیثیت ہوتی ہے ــــــــــ قائل، مستمع، آخذ۔ یعنی کہنے والا اور سننے والا اور ماننے والا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جس حیثیت میں پائے ، وہ اس کا پورا حق ادا کرے۔ اگر اس کو بولنے کا موقع مل رہا ہے تو وہ ذمہ دارانہ کلام کرے۔ وہ وہی بولے جو اس کو بولنا چاہیے ، وہ ایسا کلام نہ کرے جو حقیقت واقع سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ اس کا بولنا حقیقت کے اظہار کے لیے ہو نہ کہ خود نمائی کے لیے۔ اسی طرح جو سن رہا ہے اس پر بھی لازم ہے کہ وہ سننے کا حق ادا کرے۔ وہ کہی ہوئی بات کو پورے دھیان کے ساتھ سنے اور اس کو اسی معنی میں لے جس معنی میں لینے والے نے اس کو کہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader