حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 263
By Maulana Wahiduddin Khan
دانش مندی حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ دانش مند سے رہنمائی حاصل کرو تم راہ یاب ہوگے اور اس کے خلاف نہ کرو ورنہ تم پشیمان ہوگے (استر شد و العاقل تر شد و لا تغصوہ فقتند مو) ادب الدنیا والدین للبصری ، صفحہ ۴۰۵ انسان سب یکساں نہیں ہوتے کسی کے پاس علم کم ہوتا ہے اور کسی کے پاس علم زیادہ، کوئی زیادہ تجربہ کار ہوتا ہے اور کوئی کم تجربہ کار ۔ اسی طرح کوئی شخص فطری طور پر زیادہ سوچ سمجھ بوجھ والا ہوتا ہے اور کوئی کم سوچ سمجھ بوجھ والا۔ یہ فرق اس لیے ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے سے فائدہ اٹھائیں۔ ایک آدمی اگر اپنے اندر کی پائے تو وہ دوسرے کے ذریعہ اپنی اس کی کو پورا کرے ۔ یہ فطرت کا نظام ہے اور جو چیز خود فطرت کے نظام سے تعلق رکھتی ہو، اس سے موافقت کر کے ہی آدمی کامیاب ہوتا ہے ۔ فطرت کے نظام کی خلاف ورزی کرنے کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جانے اور اسی کے ساتھ وہ دوسرے سے بھی واقفیت رکھتا ہو۔ جو آدمی اس طرح بے لاگ طور پر اپنے آپ کو اور دوسرے کو جانے گا اس کا مزاج یہی ہوگا کہ ہر موقع پر وہ ان لوگوں سے رہنمائی حاصل کرے جو اس سے زیادہ سوچ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں یا علم اور تجربہ میں اس سے بڑھے ہوئے ہیں۔ اور ایسے لوگوں سے اس کو جو رہ نمائی ملے گی اس کو وہ کھلے دل سے قبول کرلے گا۔ کیونکہ وہ جانے گا کہ ایسے موقع پر کوئی اور عمل کرنا اس کو تباہی کے سوا کہیں اور پہنچانے والا نہیں ۔ کوئی آدمی جب دانش مندی کی بات کو نہیں مانتا تو وہ کیوں ایسا کرتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسے معاملہ کو اپنے لیے ساکھ کا مسئلہ بنا لیتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے دوسرے کی بات مان لی تو میں اس کے مقابلہ میں نیچا ہو جاؤں گا۔ مگر اس طرح کی سوچ سراسر نادانی کی سوچ ہے، اس طرح کے معاملہ کو ساکھ یا عزت نفس کا مسئلہ بنانا اپنی کامیابی اور ترقی کے دروازہ کو خود اپنے ہاتھوں سے بند کر لینا ہے ۔ دانش مندی کی بات کو ماننا بظاہر دوسرے کی بات کو ماننا ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ خود اپنا انکار ہے۔ آدمی جب کسی دوسرے کی ایک سچی بات کو نہیں مانتا تو وہ گویا خود اپنی فطرت اور اپنے ضمیر کو رد کر رہا ہے ، یہ بلاشبہ سب سے بڑا نقصان ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader