حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 264
By Maulana Wahiduddin Khan
انجام کا لحاظ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ جب تم کسی کام کا قصد کرو تو پہلے اس کے انجام کے بارہ میں سوچو، اگر وہ درست ہو تو اس کو کرو اور اگر وہ درست نہ ہو تو اس سے رک جاؤ ( اذا هممت بأمر ففكر في عاقبته ، فان كان رشدًا فامضه و ان كان غيا فانت عنه) ادب الدنيا والدين ، صفحه 562 کائنات میں صرف خدا کی ہستی ایک ایسی ہستی ہے جس کو یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ کوئی فعل کرے تو اسے اس کے برے انجام کا کوئی خوف نہ ہو ( ولا يخاف عقبها) جہاں تک انسان کا تعلق ہے وہ ایک محدود اور بے زور مخلوق ہے ۔ اس کے لیے ایسی کارروائی ممکن نہیں جس میں اس کے انجام پر غور نہ کیا گیا ہو ، اور اگر کوئی شخص ایسی کارروائی کرے تو اس کا برا نتیجہ سب سے زیادہ اسی کو بھگتنا پڑے گا۔ انسان ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں اس کے جیسے دوسرے بہت سے انسان ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے اغراض کو پورا کرنا چاہتا ہے ۔ اسی کے ساتھ مختلف قسم کی مادی طاقتیں ہیں جو خود اپنے قانون کے تحت عمل کر رہی ہیں ۔ اس طرح گویا انسان ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں اس کو مخالفین سے بھرے ہوئے ماحول میں اپنے مقصد کے لیے عمل کرنا ہے ۔ ایسی حالت میں انسان کو کیا کرنا چاہیے ۔ اس کا جواب صرف ایک ہے ۔ اور وہ یہ کہ آدمی کوئی عمل شروع کرنے سے پہلے اس کے ہر پہلو پر غور کرے ، وہ ایک طرف اپنی طاقت کا اندازہ کرے اور دوسری طرف بے لاگ طور پر یہ دیکھے کہ خارجی دنیا میں کتنے اسباب اس کے موافق ہیں اور کتنے اسباب اس کے مخالف ۔ آدمی کو چاہیے کہ اس طرح کے گہرے جائزہ کے بعد وہ اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔ اگر آپ ایسا کریں کہ حالات کے گہرے جائزہ کے بغیر اپنی کارروائی شروع کر دیں تو عین ممکن ہے کہ آپ کا عمل الٹا نتیجہ پیدا کرے ۔ نہ صرف یہ کہ آپ کو متوقع فائدہ حاصل نہ ہو بلکہ اقدام سے پہلے آپ کو جو کچھ حاصل تھا وہ بھی غلط اقدام کے نتیجہ میں تباہ ہو جائے ۔ اس طرح کا انجام بھگتنے کے بعد اگر آپ اس کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرائیں تو یہ ایک غلطی پر دوسری غلطی کا اضافہ ہوگا ۔ اس لیے کہ آپ کو جو نقصان ہوا وہ خود آپ کی غلطی کی قیمت تھی جو حالات نے بے رحمانہ طور پر آپ سے وصول کی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader