Urdu book · اسلام ایک تعارف

حکمتِ اسلام

Urdu book, p. 272

By Maulana Wahiduddin Khan

مقام عمل کو بدلنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداؤ تیرہ سال تک مکہ میں تھے۔ وہاں کچھ لوگوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ مگر وہاں کی اکثریت آپ کی مخالفت بن گئی۔ یہاں تک کہ وہ لوگ آپ کے قتل پر آمادہ ہو گئے۔ اس وقت آپ نے ایسا نہیں کیا کہ ان کے خلاف جوابی کارروائی کریں اور کسی حال میں مکہ نہ چھوڑنے کا عزم کر لیں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ خاموشی کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ یہ گویا اپنے میدان عمل کو بدلنا تھا۔ آپ نے حالات کا گہرا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اپنی قوت کو اہل مکہ سے محاذ آرائی میں استعمال نہ کریں بلکہ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیں۔ یہ ایک سنت رسول ہے۔ اس کو مقام عمل کی تبدیلی کا نام دیا جا سکتا ہے۔ عملی اور نزاعی معاملات کے لیے یہ نہایت اہم سنت ہے۔ اس سنت کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ مسائل سے ٹکراؤ کو اپنا نشانہ عمل نہ بنانا بلکہ مسائل کے مقام سے ہٹ کر مواقع کی زمین کو اپنے عمل کا محور بنا لینا ۔ یہ اصول شریعت اور عقل دونوں کے عین مطابق ہے۔ جب بھی کوئی شخص یا گروہ اس کو اختیار نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کا معاملہ پیش آنے کے بعد اس کو اپنے لیے ساکھ (پریشیج) کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ مگر عقل مندی یہ ہے کہ کسی معاملہ کو کسی بھی حال میں عزت و وقار کا مسئلہ نہ بنایا جائے تاکہ اس کے حل کا ممکن راستہ کھلا رہے۔ کسی معاملہ کو عزت و وقار کا مسئلہ بنانا اس کو ایسی حد پر لے جانا ہے جہاں حل کی کوئی بھی تدبیر کارگر نہ رہے۔ میدان عمل کو بدلنے کی مختلف صورتیں ہیں۔ جب ایک جگہ کام کو جاری رکھنے کے مواقع نہ ہوں تو دوسرے موزوں مقام کو اپنے لیے منتخب کر لینا۔ جنگ کا طریقہ موثر نہ ہو رہا ہو تو صلح کا طریقہ اختیار کر لینا۔ ٹکراؤ سے مسئلہ حل نہ ہو رہا ہو تو پرامن گفت و شنید کے ذریعہ اپنے مقصد کو حل کرنے کی کوشش کرنا۔ براہ راست جدوجہد مفید ثابت نہ ہو رہی ہو تو بالواسطہ جدوجہد کے طریقہ کو اپنا لینا ۔ وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page