حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 271
By Maulana Wahiduddin Khan
دشمن بھی دوست قرآن کی سورہ نمبر اہم میں ارشاد ہوا ہے کہ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی ، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (حم السجدة ۳۴) بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی کی بات بری لگ جاتی ہے۔ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو آدمی کے جذبات کو بھڑکا دیتے ہیں۔ ایسے موقع پر جواب کی دو صورتیں ہیں۔ ایک منفی رد عمل اور دوسرے مثبت رد عمل ۔ منفی رد عمل یہ ہے کہ ناخوش گوار بات پیش آئے تو آدمی کے اندر غصہ بھڑک اٹھے اور غصہ کے تحت وہ جوابی کارروائی شروع کر دے۔ اس قسم کی جوابی کارروائی صرف مسئلہ کو بڑھاتی ہے ، اس سے باہمی تلخیوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ابتدائی مخالفت آخر کار دشمنی تک پہنچ جاتی ہے۔ جواب دینے والے نے اپنے خیال کے مطابق مسئلہ کو ختم کرنے کے لیے جواب دیا تھا۔ مگر اس کا جواب فریق ثانی کو مزید بھڑکا کر مسئلہ میں اور اضافہ کر دیتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی کی طرف سے کوئی ناخوش گوار بات پیش آئے تو آدمی اس کے مقابل میں جوابی انداز اختیار نہ کرے ، وہ کبھی خاموشی اختیار کر لے اور اگر بولنا ہو تو وہ کڑوے بول کا جواب میٹھے بول سے دے۔ وہ انتقامی جذبہ کے تحت کارروائی کرنے کے بجائے اصلاحی جذبہ کے تحت اپنی مثبت کوششیں جاری کر دے۔ پہلا رویہ اگر دشمنی میں اضافہ کا سبب بناتا تو دوسرا رویہ دشمن کو دوست بنانے کا ذریعہ ثابت ہو گا۔ پہلے رویہ نے اگر مسئلہ کو بڑھایا تھا تو دوسرا رویہ مسئلہ کو جڑ سے ختم کر دے گا۔ انسان کے اندر ضمیر بھی ہے اور انا بھی۔ اگر آپ کسی انسان کے ضمیر کو جگائیں گے تو ایسے انسان کو آپ اپنا دوست اور ہمدرد بنا لیں گے ، اور اگر آپ ایثار رویہ اختیار کریں جو آدمی کی انانیت کو بھڑکانے والا ہو تو برعکس طور پر یہ ہوگا کہ آدمی آپ کا مخالف اور دشمن بن جائے گا۔ ہر شخص کے اندر آپ کا ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے اور اسی کے ساتھ آپ کا دشمن انسان بھی۔ آپ کا ایک رویہ اس شخص کو آپ کا دوست بنا دیتا ہے اور آپ کا دوسرا رویہ اس کو آپ کا دشمن۔ اب یہ آپ کا اپنا حوصلہ ہے کہ آپ دونوں میں سے کس کا انتخاب کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader