Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 277

By Maulana Wahiduddin Khan

انصاف پسندی قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو! خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو پہنچا دو۔ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ خدا اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو، بے شک خدا سننے والا، دیکھنے والا ہے (النساء ۵۸) ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقہ پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری اور کامیابی اسی میں ہے جو خدا بتائے نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ زندگی کا پورا نظام امانت کے اصول پر قائم ہے۔ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کے پاس دوسرے آدمی کی کوئی چیز ہوتی ہے جس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اسے حقدار کے حوالے کرے۔ یہ امانت کسی محدود چیز کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک وسیع چیز ہے جس میں زندگی کے بیشتر معاملات داخل ہیں۔ یہ امانت کبھی ایک قول ہوتا ہے اور کبھی مال یا زمین اور کبھی کسی کا کوئی راز، یا اسی طرح اور کوئی چیز۔ اسی کے ساتھ عدل کا حکم بھی جڑا ہوا ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے معاملہ میں ایک بات انصاف کی ہوتی ہے اور دوسری بات بے انصافی کی۔ ایک روش انصاف کے مطابق ہوتی ہے اور دوسری روش انصاف کے خلاف۔ ایسے مواقع پر اعلیٰ انسان وہ ہے جس کا حال یہ ہو کہ جب وہ بولے تو انصاف کی بات بولے، جب وہ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرے تو انصاف کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے معاملہ کرے۔ اس کی انصاف پسندی اتنی بڑھی ہوئی ہو کہ اس معاملہ میں وہ اپنے میں اور غیر میں فرق نہ کرے حتیٰ کہ اگر انصاف کی روش اپنی ذات کے خلاف ہو تو وہ ذاتی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے عدل وانصاف کی روش کو اختیار کرے۔ امانت داری اور انصاف پسندی، یہی وہ اصول ہیں جن کی پابندی کسی انسان کو انسان بناتی ہے اور ایسے انسانوں کے ملنے سے جو معاشرہ بنے اسی کا نام فلاحی معاشرہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page