Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 278

By Maulana Wahiduddin Khan

فلاحِ انسانیت قرآن کی سورہ نمبر ، میں انسان کے لیے خدا کے عطیات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ تم خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تا کہ تم فلاح پاؤ ( فاذکروا آلاء الله لعلكم تفلحون ) الاعراف ۔ موجودہ دنیا میں کسی انسان کے رویئے کی درستگی کا انحصار تمام تر صرف ایک چیز پر ہے۔ اور وہ حقیقت پسندی ہے یعنی انسان اپنی واقعی حیثیت کو سمجھے اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لے۔ اپنی حیثیت واقعی کے اعتراف ہی میں تمام انسانی خوبیوں کا راز چھپا ہوا ہے یہ حیثیت واقعی کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسان خدا کی مخلوق ہے۔ خدا نے اس کو نہ صرف بہترین جسم و دماغ کے ساتھ پیدا کیا ہے بلکہ اس کو ایک ایسی دنیا دی ہے جو اس کے لیے ہر قسم کے موافق اور معاون اسباب سے بھری ہوئی ہے۔ انسان کا ذاتی وجود بھی اس کے لیے خدا کی ایک نعمت ہے اور اس کی ذات کے باہر پھیلی ہوئی دنیا بھی اپنے تمام اجزار کے ساتھ اس کے لیے ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتی ہے۔ آدمی کے اندر یہ سوچ جب پوری طرح پیدا ہو جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک متواضع انسان بن جاتا ہے، وہ احتیاط اور ذمہ داری کے احساسات میں جینے لگتا ہے۔ وہ اپنی فکر کے اعتبار سے سنجیدہ انسان بن جاتا ہے اور اپنے احساسات کے اعتبار سے ایک درد مند انسان۔ کسی سماج میں ایسے انسانوں کی موجودگی اس کے فلاح کی یقینی ضمانت ہے۔ ایسا سماج انصاف کا سماج ہو گا نہ کہ ظلم کا سماج ۔ ایسے سماج میں ہر آدمی خود اپنے ذاتی تقاضے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے والا بن جائے گا۔ وہ اس کا تحمل نہیں کر سکے گا کہ وہ صرف اپنی ذات میں جئے اور دوسروں کے حقوق سے دستبردار ہو جائے۔ خدائی نعمتوں کے احساس میں جینے والا انسان ایک حق شناس انسان ہوتا ہے اس کا یہ احساس کہ خدا نے اس کو دیا ہے ، یہی اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بھی دوسروں کو دینے والا بن جائے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page