Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 280

By Maulana Wahiduddin Khan

قانون حیات قرآن کی سورہ نمبر ۱۰ میں ارشاد ہوا ہے کہ جن لوگوں نے اقرار کیا اور انھوں نے پرہیزگاری اختیار کی ۔ ان کے لیے خوش خبری ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے (یونس ۶۳-۶۴) خدا کا اقرار سب سے بڑی حقیقت کا اقرار ہے۔ جو آدمی پورے معنوں میں خدا کا اقرار کرے اس نے اپنی زندگی کے لیے صحیح نقطہ آغاز پالیا۔ اس کے برعکس جو آدمی خدا کا اقرار نہ کرے وہ گویا اپنی زندگی کے لیے صحیح نقطہ آغاز کو نہ پاسکا۔ پہلے انسان کے لیے کامیابی ہے اور دوسرے انسان کے لیے صرف ناکامی اور نامرادی ۔ آدمی جب حقیقت واقعہ کا اقرار کرلے تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر وہ سنجیدہ ہو جاتا ہے ۔ یہ اقرار اس کو بتاتا ہے کہ دنیا میں اس کے سوا ایک اور بالا تر طاقت ہے جس کو نظر انداز کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ احتیاط اور ذمہ داری کی زندگی گزارے۔ اسی زندگی کا نام پر ہیزگاری ہے۔ خدا نے اس دنیا کے لیے جو قانون مقرر کیا ہے اس میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ انسان کے لیے واحد ممکن راستہ یہ ہے کہ وہ اس قانون سے مطابقت کر کے اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ اگر وہ اپنے آپ کو اس قانون فطرت کے مطابق نہ بنائے تو وہ خود اپنا نقصان کرے گا نہ کہ قانون فطرت کا۔ اس دنیا میں کامیابی صرف اس انسان کے لیے ہے جو اپنے آپ کو برائیوں سے بچائے، جو صحیح اور غلط میں فرق کرے۔ جو یہ جانے کہ خدا کی دنیا میں اس کو تواضع کی روش کے ساتھ رہنا ہے نہ کہ گھمنڈ کی روش کے ساتھ۔ اس کے لیے اخلاقی پابندی کا طریقہ درست ہے نہ کہ اخلاقی بے قیدی کا طریقہ۔ اس کو یہاں انسان بن کر حدود و قیود میں رہنا ہے۔ وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ جنگل کے حیوان کی طرح بے قید زندگی گزارنے لگے۔ اس دنیا میں اخلاقی پرہیز بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ غذائی پر ہیز۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page