فلاح انسانیت
Urdu book, p. 281
By Maulana Wahiduddin Khan
خوش خبری قرآن کی سورہ نمبر ۱۰ میں ارشاد ہوا ہے کہ ــــ جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لیے خوش خبری ہے۔ دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں، یہی بڑی کامیابی ہے (یونس ۶۴-۶۳) ایمان یہ ہے کہ آدمی سچے دل سے اپنے رب کا اقرار کرے۔ جب کوئی آدمی اس طرح رب العالمين کا اقرار کرتا ہے تو اس کے بعد لازمی طور پر اس کے اندر تقویٰ کی صفت پیدا ہو جاتی ہے یعنی خدا ہی سے امید رکھنا اور اسی کی پکڑ سے ڈرنا۔ ایمان اور تقویٰ کی زندگی کو اختیار کرنا گویا اس شاہراہ پر چل پڑنا ہے جس پر کائنات کا پورا قافلہ چلا جا رہا ہے۔ ایسا آدمی اپنے دل میں یہ اطمینان محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس نے آخری سچائی کو پا لیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو بقیہ کائنات کے ساتھ ہم آہنگ محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس کا یہ احساس خاموش زبان میں اس کے لیے اس بات کی بشارت بن جاتا ہے کہ وہ اس کائناتی راستے کا مسافر بن گیا ہے جو آخر کار اس کو اس منزل پر پہنچانے والا ہے جہاں نجات ہی نجات ہے اور کامیابی ہی کامیابی۔ یہ ایمان آدمی کو وہ عظیم ترین نعمت عطا کرتا ہے جس کو یقین و اعتماد کہا گیا ہے۔ جو آدمی اپنے آپ کو خدا کے ساتھ وابستہ کرلے اس نے بلا شبہ اپنے لیے زندگی کی سب سے زیادہ پر یقین اور پر اعتماد زمین حاصل کرلی۔ ایسے آدمی کا ہر قدم منزل کی طرف بڑھنے والا قدم ہے، ایسے آدمی کا ہر عمل ایسا عمل ہے جس کا نتیجہ خیز ہونا اس مالِک کائنات نے مقدر کر دیا ہے جس کے فیصلے کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ ایسے ہی لوگ حقیقی معنوں میں کامیاب لوگ ہیں۔ کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو انھیں کامیابی کی منزل تک پہنچنے سے روک سکے۔ ــــــــ خدا سے ڈرنے کا مطلب محتاط زندگی گزارنا ہے۔ خدا پر یقین اور خدا کی پکڑ کا احساس آدمی کے اندر یہ شعور جگا دیتا ہے کہ وہ دنیا میں ذمہ دارانہ زندگی گزارے۔ وہ صحیح اور غلط میں تمیز کرتے ہوئے عمل کرے۔ یہی لوگ ہیں جو آخر کار کامیاب ہوں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader