فلاح انسانیت
Urdu book, p. 284
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر کی قیمت قرآن کی سورہ نمبر ۲۳ میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں خدا اپنے اپنے وفادار بندوں کے بارہ میں فرمائے گا کہ ــــ آج میں نے ان کو بدلہ دیا ان کے صبر کرنے کا۔ وہی ہیں کامیاب ہونے والے (المومنون ۱۱۱) دنیا میں صلاح و فلاح کی جو زندگی مطلوب ہے اس کی واحد قیمت صبر ہے۔ جو لوگ صبر کی یہ لازمی قیمت دینے کے لیے تیار ہوں وہی موجودہ دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور موجودہ دنیا کے بعد بننے والی ابدی دنیا میں بھی۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو آزادی حاصل ہے یہاں کسی بھی شخص پر کوئی پابندی نہیں۔ یہاں نیک آدمی کے لیے جس طرح عمل کے مواقع ہیں، ٹھیک اسی طرح یہاں برے لوگ بھی آزاد ہیں کہ جس طرح بھی وہ چاہیں اپنی سرگرمیاں جاری کریں۔ اس بنا پر انسانی سماج ایک ایسا سماج بن جاتا ہے جہاں قدم قدم پر رکاوٹیں ہیں۔ جہاں آدمی کو بیٹھے بول کے ساتھ کڑوے بول بھی سننے پڑتے ہیں۔ یہاں آدمی کو فائدے کے ساتھ نقصان کا تجربہ بھی پیش آتا ہے۔ یہاں آدمی کا سفر خوش گوار وادیوں میں بھی طے ہوتا ہے اور ناخوش گوار وادیوں میں بھی۔ ایسی حالت میں کوئی شخص خدا پرستانہ زندگی پر کیسے قائم رہے۔ وہ کس طرح ایک با اصول انسان کے طور پر جئے جب کہ یہاں بار بار ایسے لمحات پیش آتے ہیں جو اصول پسندی کی روش کو سخت مشکل بنا دینے والے ہوتے ہیں۔ اس سوال کا جواب صرف ایک ہے ۔ اور وہ صبر ہے یعنی منفی رد عمل سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے ہر حال میں مثبت روش کا پابند بنانا۔ پیش آنے والی تلخیوں کو جھیلتے ہوئے یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو سچائی کی روش پر قائم رکھنا۔ یہی صبر ہے اور اعلیٰ انسانی شخصیت کی تعمیر کے لیے یہ صبر اتنا زیادہ ضروری ہے کہ اس کے بغیر اعلیٰ انسانی شخصیت کی تعمیر ممکن ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader