فلاح انسانیت
Urdu book, p. 283
By Maulana Wahiduddin Khan
اخلاقی دباؤ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی منکر کو دیکھے تو وہ اپنے ہاتھ سے اس کو بدل دے۔ اور اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو اپنی زبان سے اس کو برا کہے۔ اور اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے تو وہ اپنے دل میں اس کو برا سمجھے۔ اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے (مَنْ رَاٰى مِنْكُمْ مُنْكَراً فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَصْعَفُ الاِيمَانَ) صحیح مسلم کسی سماج کی اصلاح کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس کے اندر بگاڑ کے خلاف ایک مستقل روک موجود ہو۔ انسانی سماج کو اگر بگاڑ سے روکا جاتا رہے تو وہ اپنے آپ درست طریقے سے چلے گا اس کے بعد فطرت کا زور ہی اس کو بہتر سماج بنانے کے لیے کافی ہو جائے گا۔ وہ روک یہ ہے کہ سماج کے افراد میں اچھے اور برے کا احساس زندہ ہو۔ جب بھی وہ کسی فرد یا گروہ کو کوئی غلط کام کرتے ہوئے دیکھیں یا کسی کو دوسرے کے خلاف زیادتی اور بے انصافی کرتے ہوئے پائیں تو ان کا احساس ذمہ داری جاگ اٹھے۔ وہ غلط کار اور ظالم کے پاس پہنچیں اور مل کر یہ کوشش کریں کہ وہ اپنی غلط کارروائی سے باز آئے۔ وہ اپنی ساری طاقت ایسے لوگوں کو روکنے میں لگا دے، ان کی ساری کوشش یہ ہو کہ سماج میں صرف اچھی روایات فروغ پائیں، بری روایات قائم ہونے کو وہ کسی بھی حال میں برداشت نہ کریں۔ اس کام کو دوسرے لفظوں میں اخلاقی دباؤ کہا جا سکتا ہے۔ سماج میں اگر ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہوں جو کسی کو غلط کام کرتے ہوئے دیکھیں تو فوراً اس کے خلاف اٹھ جائیں۔ وہ ہر قسم کی پرامن کوشش کے ذریعہ ایسے افراد کو مجبور کر دیں کہ وہ اپنی بری روش سے باز آئیں اور آئندہ اس کو دہرانے کی ہمت نہ کریں۔ یہ کام تمام تر پر امن اخلاقی دباؤ کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے۔ اس اخلاقی دباؤ کی بہت سی صورتیں ہیں۔ اور حالات کے اعتبار سے اس کو اختیار کیا جانا چاہیے۔ ان میں سے ایک زبان کے ذریعہ نصیحت اور تلقین بھی ہے۔ حتیٰ کہ دل سے برائی کو برا سمجھنا بھی اسی دباؤ کی ایک قسم ہے کسی سماج میں اگر بہت سے لوگ دل کے پورے جذبے کے ساتھ برائی کو برائی سمجھنے لگیں تو اس سے جو عمومی نفسیاتی فضا پیدا ہوگی وہ خود بھی برائی کے خلاف ایک خاموش روک بن جائے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader