فلاح انسانیت
Urdu book, p. 286
By Maulana Wahiduddin Khan
رحمت سے دور قرآن کی سورہ نمبر ۴۵ میں ارشاد ہوا ہے کہ پس جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اچھے کام کیے تو ان کا رب ان کو اپنی رحمت میں داخل کرنے کا یہی کھلی کامیابی ہے۔ اور جنھوں نے انکار کیا۔ کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں۔ پس تم نے تکبر کیا اور تم مجرم لوگ تھے (الجاثیہ ۳۱-۳۰) سچائی کو نہ پانے میں سب سے بڑی رکاوٹ کبر ہے اور اس کو پانے میں سب سے بڑا مددگار تواضع ہے۔ جو آدمی تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو وہ اپنے آپ کو سب سے بڑا سمجھ لیتا ہے یہاں تک کہ حق سے بھی زیادہ بڑا۔ جب کوئی انسان اس کو حق کا پیغام دیتا ہے تو وہ اپنی اس نفسییات کی بنا پر یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اگر میں اس کو مان لوں تو میں چھوٹا ہو جاؤں گا یہ خود ساختہ اندیشہ اس کے لیے حق کو ماننے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جس انسان کے اندر عجز و فروتنی کی نفسیات ہو وہ اپنے آپ کو اتنا ہی سمجھے جتنا کہ وہ فی الواقع ہے، ایسا شخص گویا پیشگی طور پر حق کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ حق جب اس کے سامنے آتا ہے تو اس کو اسے پہچاننے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ وہ فوراً اس کو مان کر اپنے آپ کو اس کے آگے جھکا دیتا ہے۔ ہدایت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی کبر ہے۔ کبر خدا کے نزدیک ایک جرم ہے۔ ایسا آدمی گویا خدا کے دائرے میں داخل ہو رہا ہے ، ساری بڑائی صرف ایک خدا کو حاصل ہے۔ انسان کی حیثیت اس کے مقابلے میں صرف ایک عاجز بندے کی ہے۔ جو آدمی اپنی اس واقعی حیثیت کو قبول کرلے خدا اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اور اس کو ہر قسم کی اعلیٰ توفیق سے سرفراز کرتا ہے اور جو آدمی اپنی اس واقعی حیثیت کو قبول نہ کرے وہ کبھی خدا کی رحمت کا مستحق نہیں بن سکتا۔ کامیاب انسان وہ ہے جو تکبر سے خالی ہو اور ناکام وہ ہے جو تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے اس کے بعد کوئی بھی چیز اس کو خدا کے غضب سے بچانے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader