فلاح انسانیت
Urdu book, p. 287
By Maulana Wahiduddin Khan
بخل نہیں قرآن کی سورہ نمبر ۵۹ میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ جو شخص اپنے جی کے لالچ (شح نفس) سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں (الحشر ۹) انسانیت کی اجتماعی فلاح کا راز یہ ہے کہ لوگوں میں سخاوت کا مزاج ہو، وہ بخل اور لالچ سے بچے ہوئے ہوں۔ بخل کیا ہے۔ بخل در اصل بڑھی ہوئی خود غرضی کا دوسرا نام ہے۔ بخیل آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنے فائدے کی بات سوچتا ہے ، اسے دوسروں کے فائدے سے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی ، وہ سماجی مواقع کو استعمال کرکے مادی فائدے سمیٹتا ہے لیکن اس ملے ہوئے فائدے میں سماج کا حصہ ادا کرنا اسے گوارہ نہیں ہوتا ۔ اس مزاج کا انسان خود بھی گھاٹے میں رہتا ہے ، اور وہ دوسرے کے لیے بھی گھاٹے کا سبب بنتا ہے۔ لالچ اور بخل کا یہ مزاج آدمی کے دل کو تنگ کر دیتا ہے ۔ اس طرح وہ خود اپنے آپ کو کسی بڑی کامیابی سے محروم کر لیتا ہے ۔ کیوں کہ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ ۔ جتنا بڑا دل اتنی بڑی کامیابی۔ جس سماج میں اس قسم کے بخیلانہ کردار والے لوگ پائے جائیں ، وہ سماج آخر کار ایک مریض سماج بن جاتا ہے ۔ ایسے سماج میں صرف لینے کی فضا بنتی ہے ، وہاں دینے کا ماحول قائم نہیں ہوتا۔ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بدخواہی تو ہوتی ہے مگر ان کے سینے میں دوسروں کے لیے خیر خواہی کے چشمے جاری نہیں ہوتے۔ ایسے سماج میں صرف پست کرداری جنم لیتی ہے ، اعلیٰ قسم کے اخلاقی کردار وہاں پرورش نہیں پاتے۔ انسانیت کی فلاح کشادہ دلی میں ہے نہ کہ بخل میں ۔ اچھا سماج سخاوت والے لوگ بناتے ہیں نہ کہ لالچ والے لوگ۔ حقیقی انسانی دنیا کی تعمیر وہ لوگ کرتے ہیں جو دوسرے کا بھلا چاہتے ہوں نہ کہ صرف اپنی ذات اور اپنے خاندان کا۔ فرد کی ترقی مجموعی ترقی میں ہے نہ کہ صرف انفرادی ترقی میں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader