فلاح انسانیت
Urdu book, p. 298
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک دوسرے کے لیے شفقت صحیح بخاری میں روایت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لا یرحم اللہ من عبادہ الا الرحماء (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱۲۳/۱۰) یعنی اللہ اپنے بندوں میں سے صرف انہی پر رحم کرتا ہے جو خود رحم کرنے والے ہوں ۔ اچھا سماج بنانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری کشادہ رحم دلی ہے۔ جس سماج کے افراد ایک دوسرے پر رحم کرنے والے ہوں وہ سماج امن و ترقی کا سماج ہوگا۔ اور جس سماج کے لوگوں میں ایک دوسرے کے لیے رحم کا جذبہ نہ ہو، ایسا سماج ایک جنگل کی مانند ہوگا جس میں کسی کو بھی سکون حاصل نہیں ہوگا۔ جب ایک آدمی دوسرے آدمی پر رحم کرتا ہے تو یہ صرف دو آدمی کے درمیان کا واقعہ نہیں ہوتا بلکہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے پورے معنوں میں ایک اجتماعی واقعہ ہوتا ہے اس سے سماج میں ایک دوسرے پر مہربانی کرنے کی روایات فروغ پاتی ہیں، سماج میں لوگوں کے درمیان رحمت و شفقت کی باتوں کا چرچا ہوتا ہے ، اس سے اعلیٰ انسانی قدروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، اور پست انسانی کردار اپنے آپ لوگوں کی نظر میں بے قیمت ہو کر رہ جاتا ہے۔ دوسروں پر رحم کرنے کا نفع د فائد ہ یہ ہے کہ رحم کرنے والے کو اس سے قلبی سکون حاصل ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کے درمیان محترم بن کر لوگوں کے ضرر سے بچ جاتا ہے۔ اس طرح کے عمل کے ذریعے سماج میں جو ماحول بنتا ہے اس کا فائدہ براہ راست اور بالواسطہ طور پر بار بار پہلے آدمی کو بھی پہنچتا رہتا ہے۔ دوسروں پر رحم کرنے والا انسان دنیا میں بھی خدا کی رحمت و برکت میں حصہ دار بنتا ہے ۔ اور آخرت میں بھی مزید اضافے کے ساتھ وہ خدا کی رحمت اور برکت کا مستحق قرار دیا جائے گا۔ انسانی سماج وہ ہے جہاں لوگوں میں ایک دوسرے کے لیے شفقت و محبت پائی جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader