Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 297

By Maulana Wahiduddin Khan

عمل پیہم حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (حبّ الاعمال الی اللہ أدومها وان قل) (اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو دوام کے ساتھ کیا جائے اگر چہ وہ تھوڑا ہو) فتح الباری ۱۱/ ۳۰۰ اس حدیث میں فطرت کا وہ قانون بتایا گیا ہے جو اللہ نے اس دنیا کے لیے مقرر کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کو عمل پیہم کہہ سکتے ہیں اور بیشتر حالات میں تھوڑا عمل ہی دیر تک مسلسل کیا جا سکتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی نتیجہ اچانک نہیں نکلتا۔ یہاں کوئی حقیقی نتیجہ صرف اس وقت برآمد ہوتا ہے جب کہ بہت سے موافق عوامل اس کے گرد اکٹھا ہو گئے ہوں۔ اور اس طرح کے عوامل کا کسی ایک مقصد کے حق میں اکٹھا ہونا لمبی اور لگا تار جد و جہد کے بغیر ممکن نہیں۔ کوئی شخصی مقصد ہو یا اجتماعی مقصد ، کوئی سماجی کام ہو یا سیاسی کام ، زراعت و باغبانی کا معاملہ ہو یا کوئی انقلابی تحریک چلانے کا معاملہ ، فیکٹری قائم کرنے کا منصوبہ ہو یا شہر تعمیر کرنے کا منصوبہ ، ہر چھوٹا یا بڑا کام مسلسل جد و جہد چاہتا ہے۔ ہر کام کا یہ تقاضا ہے کہ اس کو نقطۂ آغاز سے شروع کیا جائے اور خاموش عمل کرتے ہوئے اس کو تکمیل تک پہنچایا جائے۔ جد و جہد میں دوام ہونا جد و جہد کی کامیابی کا ضامن ہے۔ اور جد و جہد کی مقدار کا تھوڑا ہونا جد و جہد کی بقا کا ضامن ۔ عمل کی بہتر صورت یہ ہے کہ آدمی کے لیے ایک درست نشانہ ہو اور پھر وہ اپنے عمل کا ایک ایسا کورس مقرر کرے جس کو وہ مسلسل جاری رکھ سکتا ہو۔ لگاتار جاری رہنے والا تھوڑا عمل اس سے بہتر ہے کہ آدمی چند دنوں کے لیے زیادہ عمل کرے اور پھر اس کے بعد بے عمل ہو کر بیٹھ رہے۔ جو آدمی کامیابی کا خواہشمند ہو اس کو چاہیے کہ وہ فطرت کے اس قانون سے کبھی انحراف نہ کرے، اس دنیا میں قانون فطرت سے انحراف کا انجام خود انحراف کرنے والے کو بھگتنا پڑتا ہے ، کسی دوسرے کو نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page