Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 300

By Maulana Wahiduddin Khan

فلاح کا راستہ صحیح مسلم میں یہ روایت آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــ اس شخص نے فلاح پائی جس نے اطاعت کی، اور اس کو بہت در ضرورت رزق ملا، اور خدا نے اس کو جو کچھ دیا اس پر اس کو قناعت کی توفیق ملی (قد افلح من اسلم، ورزق کفافاً، وقنعه الله بما آتاه) اس دنیا میں فلاح و کامیابی کا راز زیادتی میں نہیں ہے بلکہ قناعت میں ہے۔ زیادہ چاہنے والے کے لیے کبھی حد نہیں آتی۔ مگر قناعت کرنے والے کے لیے حد آ جاتی ہے۔ وہ ایک مقام پر پہنچ کر مطمئن ہو جاتا ہے۔ زیادہ کی حرص کرنے والا ہمیشہ بے اطمینانی کی حالت میں رہتا ہے، اور طے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہمیشہ اطمینان کی حالت پر۔ بقدر ضرورت رزق کس کو ملتا ہے، یہ وہ شخص ہے جو اپنی تمام کوششوں کو صرف مال کے حصول میں نہ لگائے بلکہ اسی کے ساتھ وہ ایک فکری اور روحانی زندگی بھی گزار رہا ہو۔ اس کی روحانیت اور اس کا فکری ارتفار اس بات کا ضامن بن جاتا ہے کہ وہ مال ہی کو سب کچھ نہ سمجھے۔ ایسا آدمی عین اپنے مزاج کے مطابق اس حقیقت کو جان لیتا ہے کہ مال میرے لیے ہے نہ کہ میں مال کے لیے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ محدود مال اس کی ضرورت کے لیے کافی ہو گیا تو اپنے آپ اس کی رغبت لامحدود مال کی طرف سے ہٹ جاتی ہے۔ وہ ایک ایسی زندگی کو پا لیتا ہے جس میں سکون ہی سکون ہو اور اطمینان ہی اطمینان ہو۔ یہ ضروری ہے کہ آدمی کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کا کوئی حقیقی کام اٹکا ہوا نہ رہے۔ مگر یہ بالکل غیر ضروری ہے کہ آدمی کے پاس مال کا ڈھیر ہو، حتیٰ کہ وہ یہ بھی نہ جانے کہ اس مال کو اسے کہاں خرچ کرنا چاہیے۔ مال آدمی کی ضرورت ہے، مال آدمی کا مقصد نہیں۔ یہی اس دنیا میں پرسکون زندگی کا راز ہے اور جو لوگ ایسی زندگی پر راضی ہو جائیں انھیں کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ روحانی ترقی کریں، اور فکری بلندی کے اعلیٰ درجات کو پاسکیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page