فلاح انسانیت
Urdu book, p. 301
By Maulana Wahiduddin Khan
اجتماعی زندگی حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں بغض نہ رکھو اور آپس میں حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے دشمنی نہ کرو اور خدا کے بندو! بھائیوں کی طرح رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رہے (عن انس بن مالك ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا تباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله اخوانا ولا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث) صحیح مسلم، کتاب البرو الصلة والادب انسان سماج کے اندر کس طرح رہے ، اس کا ایک فطری نمونہ خدا نے ہر ایک کی قریبی زندگی میں قائم کر دیا ہے۔ یہ بھائی بہن کا نمونہ ہے۔ ہر گھر میں بھائی اور بہن ہوتے ہیں۔ ہر آدمی خود اپنی فطرت کے زور پر اپنے بھائی اور بہن کا خیر خواہ ہوتا ہے ، وہ اپنے بھائی اور بہن سے محبت کرتا ہے۔ ہر آدمی بھائی اور بہن کے مسئلہ کو اپنا مسئلہ سمجھتا ہے۔ وہ بھائی اور بہن کی ضرورت کو خود اپنی ضرورت کی طرح دیکھتا ہے۔ یہی چیز ہے جو ہر گھر کو سکون کا گہوارہ بنا دیتی ہے۔ آدمی جس طرح اپنے گھر میں رہتا ہے اسی طرح اس کو سماج میں رہنا ہے۔ ہر آدمی کا اپنا گھر وہ فطری ماڈل ہے جو اس کو بتاتا ہے کہ وہ سماج میں کس طرح رہے۔ اگر ہر آدمی باہر کے ماحول میں بھی اسی طرح رہے جس طرح وہ اپنے گھر میں رہتا ہے تو پورا سماج امن اور رحمت کا سماج بن جائے گا۔ یہ فطری ماڈل کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں ، ان کا سینہ ایک دوسرے کے خلاف بغض سے خالی ہو۔ لوگ ایک دوسرے کی ترقی پر خوش ہوں ، سماج کا ایک فرد سماج کے دوسرے فرد کی ترقی پر حسد نہ کرے ۔ ہر مرد و عورت کے دل میں دوسرے مرد و عورت کے لیے محبت کا جذبہ ہو۔ ان کا سینہ ایک دوسرے کی دشمنی سے خالی ہو۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ ایسے موقع پر آدمی کو چاہیے کہ وہ فریق ثانی کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ کرے ۔ اگر کبھی ایسا ہو کہ بات بڑھ جائے اور دونوں ایک دوسرے سے دوری اختیار کر لیں تو زیادہ سے زیادہ تین دن تک ان کو اس حال میں رہنے کی رخصت ہے ، تین دن کے بعد ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے غصہ کو ٹھنڈا کر لیں اور دوبارہ معتدل انداز میں ملنا جلنا شروع کر دیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader