Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 317

By Maulana Wahiduddin Khan

کائناتی نقشہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر روز صبح کو دو فرشتے اترتے ہیں ۔ ان میں سے ایک کہتا ہے۔ اے خدا! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے۔ اور دوسرا فرشتہ کہتا ہے کہ اے خدا! روکنے والے کے مال کو ضائع کر دے (عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما من يوم يصبح العباد فيه الامكان ينزلان فيقول احد هما اللهم اعط منفقاً خلفاً، ويقول الآخر اللهم اعط ممسكاً تلفاً) انسان کے لیے موجودہ دنیا میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ فطرت کے نقشہ کو سمجھے اور اس کے مطابق زندگی گزارے۔ اس دنیا میں فطرت کے نقشہ سے مطابقت کا نام کامیابی ہے اور فطرت کے نقشہ سے انحراف کا نام ناکامی۔ فطرت کا نقشہ کیا ہے۔ فطرت کا نقشہ یہ ہے کہ کسی کو جو کچھ مل لے وہ ایسا نہ کرے کہ اس کو خود اپنے لیے ہی سمیٹ لے بلکہ وہ اس کو دوسروں تک پہنچائے۔ سورج کو روشنی ملتی ہے تو وہ اس کو صرف اپنے لیے خاص نہیں کر لیتا بلکہ وہ اپنی روشنی کو سارے عالم میں بکھیر دیتا ہے۔ ہواؤں کے پاس آکسیجن کی نعمت ہے تو وہ اس کو ہر طرف لیے پھرتی ہیں تاکہ وہ تمام سانس لینے والوں کو اسے پہنچا سکیں۔ چشموں کے ذریعہ ایک دریا کو پانی ملتا ہے تو وہ زمین پر رواں ہو جاتا ہے تاکہ کھیتوں اور باغوں کو سیراب کر سکے۔ درخت کو پھول اور پھل ملتے ہیں تو وہ انھیں دوسروں کے لیے وقف کر دیتا ہے، وہ ایسا نہیں کرتا کہ تمام پھلوں اور پھولوں کو صرف اپنے ہی پاس رکھ لے۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ ایک انسان کو جب مال کا کوئی حصہ ملے تو اس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ پورے مال کو اپنی ذاتی چیز سمجھ لے اور اس کو صرف اپنے آپ پر خرچ کرے۔ جو ایسا کرے گا وہ گویا فطرت کے نقشہ سے ہٹ گیا۔ اس نے اپنے آپ کو پوری کائنات کی نظر میں مجرم بنالیا۔ اس کے برعکس صاحب مال کو ایسا کرنا چاہیے کہ وہ ملے ہوئے مال میں دوسرے انسانوں کا حصہ لگائے۔ وہ اس کو بقدر ضرورت اپنے پاس رکھے اور اس کے بعد پوری فیاضی کے ساتھ اس کو دوسروں کی ضرورت پوری کرنے میں صرف کرے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page