Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 316

By Maulana Wahiduddin Khan

طاقت کا صحیح استعمال حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق سے فرمایا کر اے ابو حفص ، تم بہت طاقتور آدمی ہو، پس تم کمزور کو نہ ستاؤ (قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعمر بن الخطاب : يا ابا حفص ، انك فيك فضل قوة ، فلا تؤذ (الضعيف) جامع الاصول فی احادیث الرسول ۳ صفحہ ۱۸۳۔ سماج میں ہمیشہ کچھ لوگ کمزور ہوتے ہیں اور کچھ طاقتور، کچھ غریب اور کچھ امیر، کچھ کم وسائل والے اور کچھ زیادہ وسائل والے ۔ یہ فرق ایک فطری فرق ہے اور وہ ہر زمانہ میں اور ہر حال میں باقی رہتا ہے ۔ یہ فرق اس لیے نہیں ہے کہ جو طاقت ورہے وہ کمزور کو ستائے۔ جس کے پاس زیادہ ہے وہ کم والے کو حقیر سمجھے ۔ یہ فرق صرف اس لیے ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی کمی کو پورا کریں، لوگ تقسیم کار کے اصول پر زندگی کا نظام چلائیں۔ بعض کام ایسے ہیں کہ انہیں طاقتور انجام دے سکتا ہے، لیکن کمزور اسے انجام نہیں دے سکتا۔ اسی طرح کچھ کام ہیں جن کو کرنا کمزور کے لیے آسان ہوتا ہے اور طاقتور کے لیے مشکل ۔ یہ ایک فطری تقسیم کار ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ملی ہوئی حیثیت کو خدا کی طرف سے دیا ہوا سمجھیں، وہ اس کو خدا کے اجتماعی منصوبہ کے ایک جزو کے طور پر دیکھیں ۔ اگر لوگوں میں یہ ذہن ہو تو ہر آدمی حقیقت پسند بن جائے گا، ہر آدمی خدا کے منصوبہ کی تکمیل میں اپنے آپ کو لگا دے گا ۔ یہی معاملہ ہر فرق کا ہے۔ انسانوں میں ایک دوسرے کے درمیان جو بھی فرق دکھائی دیتا ہے وہ امتیاز کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ وہ ذمہ داریوں کی تقسیم کے لیے ہے۔ جو آدمی فرق کو امتیاز کے معنی میں لے اور انسانوں کے اوپر اس کا اظہار کرنے لگے ، اس نے کسی انسان کے خلاف سرکشی نہیں کی بلکہ براہ راست خدا کے خلاف سرکشی کی، وہ خدا کے نفس کار کو ماننے پر تیار نہیں ہوا۔ کسی آدمی کو کوئی چیز زیادہ ملے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس پر خدا کا شکر ادا کرے ۔ بیشک ایک طرف خدا کی عنایات کا اعتراف ہے، اور دوسری طرف وہ آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے۔ یہ تواضع ہی تمام اعلیٰ اخلاقیات کی روح ہے۔ جس آدمی کے اندر تواضع نہ ہو وہ ایک بے قیمت انسان ہے، خدا کی نظر میں بھی اور بندوں کی نظر میں بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page