فلاح انسانیت
Urdu book, p. 319
By Maulana Wahiduddin Khan
حسنِ ظن حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ لوگوں کے بارے میں اچھا گمان رکھنا اچھی عبادت کا ایک حصہ ہے (قال نصر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حسن الظن من حسن العبادة) سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ، باب في حسن الظن ۔ عبادت کوئی رسم نہیں ہے۔ عبادت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک روحانی عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی آدمی کی زندگی میں عبادت اپنی روح کے ساتھ شامل ہوتی ہے تو اس کے اخلاقی سلوک میں بھی لازمی طور پر اس کے اثرات دکھائی دینے لگتے ہیں۔ انہی میں ایک اثر وہ ہے جس کا نام حسنِ ظن ہے۔ حسنِ ظن یہ ہے کہ آپ ہمیشہ دوسروں کے بارہ میں اچھی رائے رکھیں۔ کسی کے ساتھ آپ کا ربط قائم ہو تو آپ اس کے بارہ میں اپنی سوچ کا آغاز بدگمانی سے نہ کریں بلکہ خوش گمانی کے ساتھ کریں۔ آپ اس کو اپنے ہی جیسا ایک شریف انسان سمجھیں ، نہ کہ اپنے سے مختلف کوئی غیر شریف انسان ۔ اخلاق کا یہ اصول صرف عام حالات کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ غیر معمولی حالات کے لیے بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کے سامنے کسی آدمی کی کوئی ایسی بات آئے جو بظاہر درست نہ ہو تب بھی آپ اس کی بہتر تاویل کریں۔ انسان کے بارے میں اپنی خوش گمانی کو آپ اس وقت تک باقی رکھیں جب تک کھلی دلیلوں سے کوئی غلط بات ثابت نہ ہو جائے ۔ جس سماج میں لوگ ایک دوسرے کے بارہ میں حسنِ ظن سے کام لیں وہ سماج گویا پھولوں کا سماج ہوگا ۔ اور جس سماج میں لوگ ایک دوسرے کے خلاف بدگمانی کرنے لگیں وہ سماج گویا ایک ایسا سماج ہے جس میں ہر طرف کانٹے بچھا دیے گئے ہوں ۔ جو آدمی دوسرے کے خلاف بدگمانی کرے وہ سب سے پہلے خود اپنے بارے میں بتاتا ہے کہ وہ صحیح مزاج کا انسان نہیں ، اس کے اندر انسانی صفات موجود نہیں۔ حسنِ ظن خود اپنی شخصیت کا اچھا تعارف ہے اور بدگمانی خود اپنی شخصیت کا برا تعارف ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader