Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 320

By Maulana Wahiduddin Khan

شکرو اعتراف حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو انسانوں کا شکریہ ادا نہ کرے وہ خدا کا شکریہ بھی نہیں ادا کرے گا (عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم من لم يشكر الناس لم يشكر الله) مشكوة المصابیح ۲ صفحه ۹۱۱ - اعتراف تمام انسانی صفات میں سب سے زیادہ اعلیٰ وارفع صفت ہے۔ یہ شریف آدمی کی سب سے زیادہ یقینی پہچان ہے۔ جس آدمی کے اندر اعتراف کی صفت نہ ہو، اس کے اندر انسانیت کی بقیہ صفات بھی موجود نہیں ہوں گی۔ اس اعلیٰ انسانی صفت کے دو پہلو ہیں۔ ایک کا تعلق خدا سے ہے اور دوسرے کا تعلق انسان سے۔ یہ صفت جب خدا کی نسبت سے ظاہر ہو تو اس کا نام شکر ہے۔ اور یہ صفت جب انسانوں کی نسبت سے ظاہر ہو تو اسی کا نام اعتراف ہے۔ یہ نا ممکن ہے کہ آدمی کے اندر ایک صفت پائی جائے لیکن اس کے اندر دوسری صفت موجود نہ ہو۔ جس آدمی کا سینہ شکر خداوندی سے معمور ہوگا وہ انسان کا اعتراف کرنے سے بھی نہیں رکے گا، اسی طرح جس آدمی کے اندر انسان کے لیے اعتراف کا جذبہ پایا جائے وہ اس سے بھی زیادہ خدا کا شکر کرنے والا ہوگا۔ شکرو اعتراف کا نفسیاتی سرچشمہ جرأت ہے۔ جس آدمی کے اندر جرأت ہو اس کے لیے شکر یا اعتراف کا کلمہ بولنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ اس کے برعکس جو آدمی جرأت سے محروم ہو اس کا سینہ شکر و اعتراف کے لیے تنگ ہوگا۔ بہادر آدمی اپنے عمل کو بھی دوسرے کے خانہ میں ڈالنے سے نہیں ڈرتا، اور جو آدمی بزدل ہو وہ کوئی بھی عمل دوسروں کے خانہ میں ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، نہ اپنا عمل اور نہ دوسروں کا کیا ہوا عمل۔ شکرو اعتراف ایک عظیم نیکی ہے۔ ایسا کرنے والے کے سینہ میں روحانیت کا ایک باغ آگ آتا ہے، وہ ہر قسم کے تعصبات سے بلند ہو کر جینے لگتا ہے، وہ قلب و ذہن کی کشادگی کی نعمت کو پالینا ہے، جس سے بڑی کوئی اور نعمت اس دنیا میں نہیں ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page