فلاح انسانیت
Urdu book, p. 321
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقی دولت حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــ دولت مندی سامان کی کثرت کا نام نہیں ہے ، دولت مندی یہ ہے کہ آدمی دل کا دولت مند ہو (عن ابی هریرة قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ليس الغنى عن كثرة العرض ولكن الغنى غنى النفس) تفسير ابن کثیر ص ۵۲۳ ہر آدمی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے پاس ہر قسم کا ساز و سامان موجود ہو ، وہ زیادہ سے زیادہ سامان اکٹھا کرنے میں لگا رہتا ہے مگر اس کی فہرست کبھی مکمل نہیں ہوتی ہے۔ آدمی ایک سامان کے بعد دوسرے سامان کی طلب میں سرگرداں رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ غیر مطمئن حالت میں مرجاتا ہے۔ سامان کی کثرت کے باوجود ، کیوں ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اطمینان کا راز کثرت میں نہیں ہے بلکہ قناعت میں ہے۔ آدمی اگر ضرورت کو معیار بنائے تو بہت جلد اس کی حد آجاۓ گی۔ لیکن جب وہ فراوانی کو اپنا مقصود بنالے تو اس کی حد کبھی نہیں آۓ گی۔ سامان زندگی کے لیے ہے نہ کہ زندگی سامان کے لیے۔ سامان کی حیثیت خادم کی ہے اور انسان کی حیثیت آقا کی۔ آدمی جب ضرورت کو اپنا مقصود بنالے تو وہ اس کے مقابلہ میں آقا کی حیثیت میں ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ سامان کو مطلق حیثیت دے دے تو سامان کی حیثیت اس کے آقا کی ہو جاتی ہے اور اس کی اپنی حیثیت خادم کی۔ بقدر ضرورت سامان پر قانع ہونے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے دن اور رات سکون کے ساتھ گزرنے لگتے ہیں ، وہ اطمینان کی نیند سوتا ہے اور صبح کو جب وہ سو کر اٹھتا ہے تو اس کا دل اطمینان وسکون سے بھرا ہوتا ہے۔ انسان کی اصل بلندی یہ ہے کہ اس کے سامنے ایک اعلیٰ مقصد ہو اور وہ اپنے آپ کو پورے طور پر اس میں لگادے۔ یہ اس کے بغیر ممکن نہیں کہ آدمی مادی ساز و سامان کو ثانوی حیثیت دے اور زندگی کا جو اصل مقصد ہے اس کو اولین حیثیت سے اختیار کرے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader