فلاح انسانیت
Urdu book, p. 323
By Maulana Wahiduddin Khan
محنت کی کمائی حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ۔ سب سے بہتر رزق یہ ہے کہ آدمی اپنے ہاتھ سے محنت کر کے کھائے (عن المقدام رضی اللہ عنه عن النبي صلی الله علیه وسلم قال: ما اكل احد طعاما قط خیراً من ان يأكل من عمل يده) فتح الباری ص صفحه ۳۵۵۔ رزق ہر انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی دوسروں کی کمائی پر زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔ مگر یہ رزق کا کوئی اچھا طریقہ نہیں۔ رزق کے حصول کا زیادہ اعلیٰ طریقہ یہ ہے کہ آدمی خود اپنے ہاتھ پاؤں اور اپنے دماغ سے محنت کرے ۔ اور اس طرح ذاتی محنت سے حاصل کی ہوئی آمدنی پر زندگی گزارے۔ دوسروں کی کمائی پر زندگی گزارنا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس سے بے شمار خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، اس سے آدمی کے اندر سستی اور کاہلی آتی ہے، وہ جرات اور حوصلہ سے محروم ہو جاتا ہے، اس کا سینہ اعلیٰ اخلاقیات کی پرورش گاہ نہیں بنتا، اس کی ذہنی اور فکری ترقی رک جاتی ہے، اس کا وجود زندگی اور حرارت کی خصوصیات سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی ذاتی محنت کے ذریعہ اپنی روزی حاصل کرے ۔ جس کی آمدنی، ایک مسلسل جد و جہد کا نتیجہ ہو وہ ایک بلند حوصلہ انسان ہوتا ہے۔ اس کے اندر اعلیٰ اخلاقیات پیدا ہوتی ہیں، اس کے اندر اقدامی عمل کی ہمت ہوتی ہے، وہ خطرہ مول لے کر آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتا ہے، دوسروں کی کمائی پر جینے والا انسان اگر ایک ناقص انسان ہوتا ہے تو اپنی کمائی پر جینے والا انسان پورے معنوں میں ایک کامل انسان ۔ جس سماج میں بیشتر لوگ دوسروں کی کمائی پر جینے والے ہوں وہاں استحصال کا مزاج پرورش پاتا ہے، لوگ ایک دوسرے کو اس نظر سے دیکھنے لگتے ہیں کہ وہ اس سے کتنا زیادہ لوٹ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس جس سماج میں زیادہ لوگ اپنی محنت کی کمائی پر گزر کر رہے ہوں وہاں حقیقت پسندی کا مزاج بنے گا۔ لوگ ایک دوسرے سے لینے کے بجائے ایک دوسرے کو دینے کے شائق ہو جائیں گے۔ ایسے ماحول میں نقصان رسانی کی حوصلہ شکنی ہوگی اور نفع رسانی کی حوصلہ افزائی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader