فلاح انسانیت
Urdu book, p. 324
By Maulana Wahiduddin Khan
کبر و غرور حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــ وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی کبر ہو گا (لوگوں نے پوچھا کہ کبر کیا ہے) آپ نے فرمایا کہ کبر، حق کو نظر انداز کرنا اور انسانوں کو حقیر سمجھنا ہے (عن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر، قيل وما الكبر) قال الكبر بطر الحق وغمط الناس) صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر۔ کبر یا گھمنڈ بلا شبہ تمام جرموں میں سب سے بڑا جرم ہے۔ گھمنڈ کرنے والا کبھی سورج یا پہاڑ یا سمندر جیسی چیزوں کے معاملہ میں گھمنڈ نہیں کرتا۔ جب بھی کوئی گھمنڈ کرنے والا گھمنڈ کرتا ہے تو وہ انسان کے مقابلہ میں گھمنڈ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بعض اوقات ایک انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی معاملہ میں دوسروں سے زیادہ ہے، مثلاً جسمانی طاقت یا مال کے مقابلہ میں۔ اس فرق کی بنا پر وہ دوسرے کو حقیر اور اپنے کو بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ اسی کا نام گھمنڈ ہے۔ مگر یہ نہایت پستی کی بات ہے کہ کوئی آدمی اس قسم کے فرق کی بنا پر گھمنڈ میں مبتلا ہو جائے ۔ اس لیے کہ کسی کو اگر کوئی چیز زیادہ ملی ہے تو وہ اس کی اپنی پیدا کی ہوئی نہیں ہے۔ بلکہ وہ خدا کی دی ہوئی ہے۔ جو چیز کسی اور کے دینے سے ملی ہو، اس پر آدمی کے اندر تواضع کی کیفیت پیدا ہونی چاہیے نہ کہ گھمنڈ کی کیفیت۔ گھمنڈ کرنا گو یا اپنی حد سے تجاوز کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آدمی گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ ایسے کام کرنے لگتا ہے جو اس کی انسانی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایسا آدمی جھوٹے بھرم میں مبتلا ہو جاتا ہے، وہ زمین میں اکڑ کر چلتا ہے، وہ حق کے آگے جھکنے کے بجائے حق کو نظر انداز کرنے لگتا ہے، وہ دوسرے انسانوں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے، حالاں کہ یہ دوسرے انسان بھی اسی خدا کے پیدا کیے ہوئے ہیں جس نے خود اس کو وجود بخشا ہے۔ اس دنیا میں بڑائی کا حق صرف ایک خدا کو حاصل ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی گھمنڈ کرتا ہے، وہ گویا اپنے آپ کو خدا کے برابر ٹہرا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا گھمنڈ کرنے والے کو بے حد ناپسند کرتا ہے۔ وہ ایسے آدمی کو دنیا ہی میں ذلیل کر دیتا ہے اور آخرت میں تو اس کے لیے ذلت اور ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader